انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 164

کے متعلق لکھا تھا چھاپ دیا گیا تھا۔یہ سب واقعات مل کر کس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ہر شخص خود اپنے دل میں اس کا جواب پالے گا۔تاریخ اختلاف سلسلہ کا نواں امر نویں بات مولوی محمد علی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ احمدیوں نے اس کی یعنی اس عاجز کی بیعت بہت سی غلط فہمیوں کے ماتحت کرلی تھی۔اوراب ان میں سے بہت سے کھلے طور پر میرے خیالات سے متنفر ہورہے ہیں۔چنانچہ مولوی سیّد محمد احسن صاحب جو حضرت مسیح موعودؑ کے سب سے پُرانے اورسب سے زیادہ علم والے زندہ صحابی ہیں۔انہوں نے ایک اعلان شائع کیا ہے کہ ایم محمودخلافت کے قابل نہیں۔کیونکہ وہ مفصلہ ذیل غلط عقائد کی اشاعت کرتا ہے۔اوّل یہ کہ تمام قبلہ گوئوں کو کافر کہتا ہے۔دوم یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ کو کامل اور حقیقی نبی مانتا ہے۔نہ کہ جزوی نبی یا محدث سوم یہ کہ پیشگوئی مذکورہ سورۃ الصف متعلق احمد کو حضرت مسیح موعودؑ کے حق میں سمجھتا ہے۔جماعت احمدیہ نے میری بیعت غلط فہمی سے نہیں کی سب سےپہلے تو مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ خیال کہ لوگوں نے غلط فہمیوں کے ماتحت میری بیعت کرلی تھی بالکل غلط ہے۔کیونکہ جب میں خلیفہ ہوا ہوں اس سے پہلے میرے عقائد شائع ہو چکے تھے۔مسئلہ نبوت کےمتعلق جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں ۱۹۱۰؁ء میں میرا لیکچر ہوا تھا۔جو اخبارات سلسلہ میں شائع ہوچکا تھا۔اسی طرح اور متعدد مضامین میں نبوت کے متعلق میری تحریرات موجود تھی۔مسئلہ کفر کے متعلق ایک مستقل رسالہ٭لکھ چکا تھا اوربقول مولوی صاحب ۱۹۱۳؁ء میں۔پھر میں نے اعلان کردیا تھا کہ جو حضرت مسیح موعود کو نہیں مانتا وہکافر ہے۔پس باوجود اس قدر شہادتوں کے یہ کہنا کیونکر درست ہوسکتا ہے کہ لوگوں نے غلط فہمی سے بیعت کرلی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک قلیل گروہ نےبعد میں بیعت توڑی بھی ہے۔لیکن اس سےسینکڑوں گُنے لوگوں نے بعد میں بیعت خلافت کی ہے۔جب میں خلیفہ ہوا ہوں۔اس وقت تو بہت ہی تھوڑے لوگ تھے جنہوں نے مجھے قبول کیا تھا زیادہ جماعتیں تو ان لوگوں کے مغالطہ دہی سے رُگ گئی تھیں۔مگر خدا تعالیٰ کے فضل نے دستگیری کی اور سب کو کھینچ کر لے آیا۔پس یہ خیال کہ غلط فہمی کے ماتحت بیعت کی بالکل غلط ہے۔اب تک بھی لوگ بیعت خلافت کر رہے ہیں۔چنانچہ دسمبر سے *مسلمان وہی ہے جو خدا کے سب ماموروں کو مانے(تشحیذ الاذہان اپریل ۱۹۱۱ء)