انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 163

نہ ہو تو ان کا خیال چھوڑ و۔کب تک ہم ان کا پہرہ دیں گے اللہ تعالیٰ سے دُعا کرو اور روزے رکھو تا کہ یہ فتنے اور ابتلاء دُور ہوں۔چنانچہ پھر ان کی طرف ہم نے خیال نہ رکھا۔پھر وہ ہفتہ کے دن بھی نہ سُنا سکے اور نہ اتوار کے دن۔ہاں اتوار اور پیر کی درمیانی شب یا پیر اور منگل کی درمیانی شب کو انہوں نے یہ انتظام کیا کہ کسی کو اندر نہ آنےدیں اور مضمون سنائیں۔پٹھانوں کا پہرہ لگایا اوران کو یہ کہا کہ خلیفۃ المسیح کا یہ حکم ہے کہ کوئی اندر نہ آوے۔چنانچہ اس وقت بغرض عیادت حضرت مکرم معظم میر ناصر نواب صاحب تشریف لے گئے تو پہرہ والے نےان کو سنایا کہ اندر جانے کی اجازت نہیں۔پھر مکرمی خلیفہ رشید الدین صاحب ڈاکٹر تشریف لائے تو ان کو بھی پہرہ والے نے روکا مگر انہوں نے فرمایا کہ میں ڈاکٹر ہوں۔مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔یہ زبردستی اندر چلے گئے۔انہوں نے جاکر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سےعرض کی کہ کیا آپ نے اندر آنے سے منع فرمایا ہے ؟آپ نے فرمایا کہ مَیں نے منع نہیں کیا۔ڈاکٹر خلیفہ رشیہ الدین صاحب نے بیان کیا کہ اس وقت مولوی محمد علی صاحب مضمون سُنار ہےتھے۔جب انہوں نےختم کیا۔تو حضرت خلیفہ اوّل نے دریافت کیا کہ کیا آپ کو اس مضمون پر انشراح صدر ہے انہوں نے کہا کہ ہاں تب حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا کہ مجھے اس مضمون پر انشراح نہیں۔پھر مولوی محمد علی صاحب نے کئی دفعہ اس مضمون کی تصدیق کرانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔‘‘ تحریر مؤرخہ ۷؍اگست ۱۹۱۹؁ء بقلم خاکسارعطاء محمد خادم حضرت حافظ روشن علی صاحب۔’’مَیں تصدیق کرتا ہوں کہ میرا بیان میرا ہے‘‘۔روشن علی بقلم خود۔’’مَیں حضرت حافظ روشن علی صاحب کے بیان کی تصدیق کرتا ہوں کہ وہ واقعات پر مبنی ہے اور بالکل درست ہے ‘‘خلیفہ رشید الدین ایل۔ایم ایس سول اسسٹنٹ سرجن پنشنر۔معالج حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ۷؍اگست ۱۹۱۹ء؁۔ان شہادتوں کے علاوہ حضرت خلیفہ اوّل کے صاحبزادہ عزیز عبدالحی مرحوم کی بھی شہادت ہے۔انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت خلیفہ اوّل نے اس مضمون کو پسند نہیں کیا تھا اور کہا تھا کہ قابلِ غور ہے۔آپ اسے ابھی شائع نہ کریں۔چنانچہ واقعات اس شہادت کی تصدیق کرتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں یہ مضمون شائع نہیں کیا گیا۔حالانکہ اس کے بعد کا ایک مضمون جو مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں آپ کو وفات یافتہ تصور کرکے آپ کی جانشینی