انوارالعلوم (جلد 6) — Page 136
جو عقائد ظاہر کرتے ہیں وہ صرف دکھاوے کے لئے ہیں ورنہ دراصل آپ کے عقائد اور ہیں۔اور وہ چاہتا تھا کہ اس طرح جماعت کو آپ کے خلاف بد ظن کرے۔مگر اس کا منصوبہ کار گر نہ ہو اور سخت ناکامی کا منہ اسے دیکھنا پڑا اس بات کا ثبوت یہ بھی ہے کہ یہ شخص ان چند لوگوں میں سے ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑکی ایک رؤیا کے مطابق حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل آخر عمر میں آکر مُرتد ہو گئے تھے۔مولوی محمد علی کے بیان (متعلق بناء اخراج ظہیر از جماعت ) کی غلطی پر بیرونی شہادتیں یہ تو وہ اندرونی شہادت ہے جو مولوی محمد علی صاحب کے اس دعویٰ کو رد کرتی ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے ظہیر الدین کو اس لئے جماعت میں سے نکالا تھا کہ آپ کو اس کی کتاب نبی اللہ کے ظہورسے اختلاف تھا۔اب میں بعض بیرونی شہادتیں پیش کرتا ہوں:- اوّل شہادت اس بیان کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ اس کتاب کا ذکر سلسلہ احمدیہ کے لڑیچر میں متعدد جگہ آیا ہے لیکن اس کے خلاف کسی نے کچھ نہیں لکھا۔اگر لکھا ہے تو تعریف ہی کی ہے۔اخبار بدر بدر مورخہ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۱ءکے پرچہ میں اس کتاب کی رسید دی گئی ہے اور ایڈیٹر اخبار کی طر ف سے اس کا اشتہار دیا گیا ہے لیکن اس کے برخلاف ایک لفظ نہیں لکھا گیا ہے۔اگر یہ کتاب ایسی خطرناک تھی تو کیا وجہ کہ اس کا اشتہار ہمارے اخبارات میں ایڈیٹر اخبار کی طرف سے دیاجاتا اور جماعت کو اس کے گندے مضمون سے آگا ہ نہ کیا جاتا۔بے شک بعض دفعہ اختلاف کو چنداں وقعت نہیں دی جاتی۔لیکن بقول مولوی محمد علی صاحب کے اس کتاب میں جو مضامین تھے وہ تو ایسے خطرناک تھے کہ ان کی بناء پر حضرت خلیفۃ المسیح نے ظہیرالدین کو جماعت سے خارج کردیا تھا۔پھر ایسے مضمون کی کتاب کو بے نوٹس کیونکر چھوڑ دیا گیا۔ریویو آف ریلیجنز اسی پر اگر بس ہوتی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ ایڈیٹر اخبار بدر نے رسید کتاب کے طور پر اشتہار دے دیا تھا۔ورنہ اس نے اسے پڑھا نہ تھا۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ریویو آف ریلیجنز میں جس کے ایڈیٹر خود مولوی محمد علی صاحب تھے۔اس کتاب پر تعریفی ریویوکیا گیا ہے۔ہم اس ریویو کو بتمال و کمال اس جگہ نقل کردیتے ہیں:- ’’نبی اللہ کا ظہور حصہّ اوّل۔یہ ۱۲۶ کی چھوٹی تقطیع کی ایک کتاب ہے۔جو ہمارے دوست منشی محمد ظہیر الدین صاحب نے حال میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصدیق میں تصنیف کی ہے۔