انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 126

لکھا جاچکا تھا۔معزز ایڈیٹر بدر ۶؍اپریل ۱۹۱۱ء؁کے پرچہ بدر صفحہ ۲ میں مولوی ثناء اللہ کا جواب لکھتے ہوئے غیر احمدیوں کے متعلق اپنے عقیدہ کا ذکر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں’’اسی مضمون پر جناب حضرت صاحبزادہ محمود احمد صاحب نے ایک مبسوط مضمون لکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پیش کیا ہوا ہے اس میں اُمید ہے کہ اس مسئلہ کے تمام ضروری پہلوئوں پر مفصل بحث ہوگی‘‘۔اخبارات کے متعلق یہ عام قاعدہ ہے کہ ان پر دوسرے روز کی تاریخ دی جاتی ہے کیونکہ اسی روز وہ ڈاکخانہ میں ڈالے جاتے ہیں۔پس یہ اخبار درحقیقت ۵؍اپریل کا ہے۔اور اس میں ایڈیٹر صاحب بدر تحریر فرماتے ہیں کہ ایک مبسوط مضمون حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پیش کیا ہوا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نوٹ کے تحریر کرنے سے کچھ عرصہ پہلے یہ مضمون حضرت کی خدمت میں پیش ہوچکا تھا۔پس یہ مضمون مارچ کا لکھا ہوا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ میرا مضمون جو مارچ ۱۹۱۱؁ء میں لکھا گیا تھا اور اپریل میں شائع ہوا۔ظہیر الدین اروپی کے مضمون کا جو اپریل میں لکھا گیا اور جولائی میں شائع ہوا نتیجہ کیونکر ہوسکتا ہے؟ اور کیا وہ شخص جو دونوں مضامین کی تاریخوں سے واقف ہوتے وہئے دُور دراز کے لوگوں کو دھوکا دینے اور دین سے گمراہ کرنےکے ل؛ئے ایک ایسی تحریر کو جو میرے آخری مضمون سے ایک ماہ بعد تحریر میں آئی اور تین ماہ بعد شائع ہوئی میرے مضمون کا باعث اور ما ٔخذ قرار دیتا ہے۔دیانتدار کہلا سکتا ہے؟ کیا یہ شخص اس قابل ہے کہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بُلائے۔جو شخص دینی معاملات میں بی اس قدر دلیری سے کام لیتا ہےکہ ایسا صریح دھوکا دینے سے بھی نہیں ڈرتا جو دن کو رات قرار دینے سے نہیں۔جھینپتاوہ کب اس بات کااستحقاق رکھتا ہے کہ دوسروں کو صداقت کی دعوت دے اور حق کی طرف بلائے۔مَیں حیران ہوں کہ مولوی محمد علی صاحب نے یہ جرأت کیونکر کی کہ ظہیر کے مضامین کو میرے تحریرات کا مواخذ قرار دیا اور میرے خیالات کو اس کے خیالات کا نتیجہ۔وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ میرا مضمون کفر واسلام کے متعلق اپریل میں شائع ہوا تھا اوربدر اخبار کا مندرجہ بالا نوٹ شاہد ہے کہ یہ میرا مضمون مارچ میں لکھا جاچکا تھا اور ظہیرالدین کی اسی کتاب میں اسی صفحہ پر جس کا وہ حوالہ دیتے ہیں اور اس تحریر سے جس کا وہ حوالہ دیتے ہیں صرف چار سطر نیچے لکھا ہوا موجود ہے۔کہ یہ کتاب جولائی میں شائع ہوئےاوران ہندسوں کی نسبت جن کا وہ ذکر کرتے یں زیادہ موٹے ہندسوں میں اس نوٹ کی تاریخ درج ہے جو اس کتاب کے شائع کرنے والے نے لکھا ہے یعنی ۵جولائی ۱۹۱۱ء؁پس باوجود ایسے صریح بینات کی موجودگی اور پھر ان کے علم کے مولوی صاحب کا ظہیر کی کتاب کو میرے مضمون کا محرّک قرار دینا ناواقف لوگوں کو مغالطہ دینے کی نیّت سے نہیں تو اور کس غرض سے ہے؟ دلائل کی غلطی غلطی کہلا سکتی ہے۔مگر واقعات کے ایک لمبے سلسلہ کو بگاڑ کر اور توڑ مروڑ کر پیش کرنا