انوارالعلوم (جلد 6) — Page 111
نبوت کے متعلق میرا عقیدہ مَیں تفصیل سے تو آگے جاکر بیان کروں گا مگر اس جگہ بھی مختصراً بیان کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں میں سے سب سے زیادہ سچّے اوردین کیلئے سب سے زیادہ غیرت رکھنے والے تھے۔پس آپؐکا آنے والے مسیح کو نبی کے لفظ سے بار بار یاد فرمانا اس امر کی شہادت ہے کہ آنے والا مسیح نبی ہوگا۔مگر قرآن کریم کا اپنی تعلیم کو ہر ملک اور ہر زمانہ کیلئے قرار دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو صاحب شریعت ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے آپ ؐکو اَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِ ٭فرمانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ؐکے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی اطاعت سے باہر ہوکر نبی بنے۔بلکہ جو شخص بھی نبوت کا درجہ پائے گا۔آپکے متبعین سے ہوگا اور آپؐکے فیض سے نبی ہوگا۔اِسْمُہٗ اَحْمَدُ کی پیشگوئی کے متعلق میرا عقیدہ اس پیشگوئی کے متعلق میرا یہ عقیدہ ہے کہ اس میں دو پیشگوئیاں ہیں ایک ظلّ کی اور ایک اصل کی۔ظل کی پیشگوئی حضرت مسیح موعود ؑکے متعلق ہے۔اور اصل کی پیشگوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے۔مگر اس پیشگوئی میں بالتصریح ظلّ کی خبر دی گئی ہے۔اور ظل کی خبر میں التزامی طور پر اصل کی خبر بھی آگئی ہے۔اور وہ اس طرح کہ ظل نبی کا وجود ایک ایسے نبی کے وجود گو طبعاً چاہتا ہے جو بمنزلہ اصل کے ہو۔اس لئے اس آیت سے ایک ایسے نبی کی بھی خبر نکلتی ہے جس سے اس پیشگوئی کا اصل مصداق فیوض حاصل کرے گا۔اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظل نہیں ہوسکتے بلکہ اصل ہیں۔آپؐنے کسی انسان سے فیض حاصل نہیں کیا بلکہ اور لوگ آپؐسے فیض حاصل کرتے ہیں اور ایسا خیال کرنا کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں سے فیض حاصل کرنےوالے تھے آپؐکی ہتک ہے۔اس لئے اور نیز بعض اور دلائل کی بناء پر میرا عقیدہ ہے کہ اس پیشگوئی کے مصداق اوّل حضرت مسیح موعودؑ ہیں جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظلّ ہیں اور مسیح ناصری کے مثیل ہیں۔لیکن میرے نزدیک یہ ایک پیشگوئی ہے جس کی نسبت الہامی تعیین کسی نبی نے نہیں کی اس لئے اس کے متعلق جو کچھ بھی عقیدہ ہوگا۔وہ علمی تحقیقات سے زیادہ نہیں کہلا سکتا۔پس اگر کوئی شخص اس آیت کے کچھ اور معنے سمجھے۔تو ہم اسے مخطی کہیں گے۔خارج از احمدیت یا گنہگار نہیں کہیں گے۔غرض یہ کہ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جسے مذہبی نقطہ خیال سے ہم کوئی اہمیت دیں۔