انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 62

ہے کہ میرے نزدیک یہ جھوٹا مقدمہ ہے۔بار بار اُس نے یہی کہا اور آخر اس شخص کو عیسائیوں سے علیحدہ کرکے پولیس افسر کے ماتحت رکھا گیا۔اور وہ شخص رو پڑااور اس نے بتا دیا کہ مجھے عیسائیوں نے سکھایا تھا اور خدا نے اس جھوٹے الزام کا قلع قمع کردیا۔اسی طرح ہماری جماعت کے پُر جوش مبلغ مولوی عمر الدین صاحب شملوی اپنا واقعہ سُنایا کرتے ہیں کہ وہ بھی اسی معیار پر پرکھ کر احمدی ہوئے ہیں۔وہ سُناتے ہیں کہ شملہ میں مولوی محمد حسین اور مولوی عبدالرحمٰن سیاح اور چند آدمی مشورہ کر رہے تھے کہ اب مرزا صاحب کے مقابلہ میں کیا طریق اختیار کرنا چاہیے۔مولوی عبدالرحمٰن صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب اعلان کر چکے ہیں کہ میں اب مباحثہ نہیں کرونگا ہم اشتہار مباحثہ دیتے ہیں اگر وہ مقابلہ پر کھڑے ہو جائیں گے تو ہم کہیں گے کہ انہوں نے جھوٹ بولا کہ پہلے تو اشتہار دیا تھا کہ ہم مباحثہ کسی سے نہ کرینگے اور اب مباحثہ کے لئے تیار ہوگئے اور اگر مباحثہ پر آمادہ نہ ہوئے تو ہم شور مچا دینگے کہ دیکھو مرزا صاحب ہار گئے۔اس پر مولوی عمر الدین صاحب نے کہا کہ اس کی کیا ضرورت ہے مَیں جاتا ہوں اور جاکر ان کو قتل کردیتا ہوں۔مولوی محمد حسین نے کہا کہ لڑکے تجھے کیا معلوم یہ سب کچھ کیا جاچکا ہے۔مولوی عمر الدین صاحب کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جس کی خدا اتنی حفاظت کر رہا ہے وہ خدا ہی کی طرف سے ہوگا۔انہوں نے جب بیعت کرلی تو واپس جاتے ہوئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالہ کے سٹیشن پر ملے اور کہا تُو کدھر ؟انہوں نے کہا کہ قادیان بیعت کرکے آیا ہوں۔کہا تُو بہت شریر ہے تیرے بات کو لکھوں گا۔انہوں نے کہا کہ مولوی صاحب یہ تو آپ ہی کےذریعہ ہوا ہے جو کچھ ہوا ہے۔پس مخالفت اس کو مارنا چاہتے ہیں وہ بچایا جاتا ہے۔خدا اس کو اپنے تازہ علم سے نصرت کرتا اور ہر میدان میں اس کو عزت دیتا ہے۔جھوٹے مدعی کو لمبی مدت نہیں ملتی حال کے متعلق ایک اور بات بھی ہے کہ خدا کبھی کسی جھوٹے مدعی کو تیئس سال کی عمر نہیں دیتا۔جیسا کہ فرمایا وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِيْنَ۔(الحاقہ :۴۵ تا ۴۷)جھوٹے مدعی کو تباہ کردیا جاتا ہےاور ہلاک کردیا جاتا ہے اور کبھی اس کو لمبی مہلت نہیں ملتی۔پس ہمارے مخالف کسی جھوٹے مدعی کو ۲۳ سال دعویٰ کے بعد زندہ رہتا ہوا دکھائیں۔وہ نہیں دکھا سکتے۔ان کو مدعی کی اپنی تحریر دکھانی ہوگی یہ نہیں کہ مخالفت کی بات دکھائیں کیونکہ مخالف کیا کچھ نہیں کرتے۔مثلاً حضرت صاحب ہی کےمتعلق کہتے ہیں کہ آپ نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا نعوذ باللہ۔پس