انوارالعلوم (جلد 6) — Page 61
جھوٹ نہ بولتا تھا اور اب خدا پر جھوٹ بولنے لگا۔مسیح موعودؑ کا ماضی اس کے مطابق ہم حضرت مرزا صاحب کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو ااپ نے یہاں کے ہندوئوں ،سکھوں اور مسلمانوں کو بار بار باعلان فرمایا کہ کیا تم میری پہلی زندگی پر کوئی اعتراض کرسکتے ہو۔مگر کسی کو جرأت نہ ہوئی۔بلکہ آپ کی پاکیزگی کا اقرار کرنا پڑا۔مولوی محمد حسین بٹالوی جو بعد میں سخت ترین مخالف ہوگیا۔اس نے اپنے رسالہ میں آپ کی زندگی کی پاکیزگی اوربے عیب ہونے کی گواہی دی اور مسٹر ظفر علیخان کے والد نے اپنے اخبار میں آپ کی ابتدائی زندگی کے متعلق گواہی دی کہ بہت پاکباز تھے۔پس جو شخص چالیس سال تک بے عیب رہا اور اس کی زندگی پاکباز رہی وہ کسی طرح راتوں رات کچھ کا کچھ ہوگیا اور بگڑ گیا۔علماءِ نفس نے مانا ہے کہ ہر عیب اور اخلاق نقص آہستہ آہستہ پیدا ہوا کرتا ہے۔ایک دم کوئی تغیّر اخلاقی نہیں ہوتا ہے۔پس دیکھو کہ آپ کا ماضی کیسا بے عیب اوربے نقص اور روشن ہے۔مدعی کا حال دوسری بات کسی مدعی کا حال دیکھنا ہوتا ہے اس کیلئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْہَادُ (المؤمن:۵۲) فرمایا کہ ہم اپنے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کی نُصرت فرماتے ہیں اس دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی پس جو خدا کا رسول ہو اس کے ساتھ خدا کی نصرت ہوتی ہے۔اگر نصرت نہیں تو وہ خدا کا مُرسل اور رسول نہیں۔لوگ قریب ہوتا ہے کہ اس کو ہلاک کردیں مگر خدا کی نصرت آتی ہے اور اس کو کامیاب کرتی ہے اور اس کے دشمنوں کے منصوبوں کو خاک میں ملادیتی ہے۔حضرت مسیح موعودؑکا حال یہی معاملہ حضرت مسیح موعودؑ کے مقابلہ میں ہوا۔آپ کو طرح طرح سے مارنے کی کوشش کی گئی۔لوگ مارنے پر متعین ہوئے جن کا علم ہوگیا اور وہ اپنے ارادے میں ناکام ہوئے۔مقدمے آپ پرجُھوٹے اقدامِ قتل کے بنائے گئے۔چنانچہ ڈاکٹر مارٹن کلارک نے جھوٹا مقدمہ اقدامِ قتل کا بنایا اورایک شخص نے کہہ بھی دیا کہ مجھے حضرت مرزا صاحب نے متعین کیا تھا۔مجسٹریٹ وہ جو اس دعویٰ کے ساتھ آیا تھا کہ اس مدعی مہدویت و مسیحیت کو اب تک کسی نے پکڑ اکیوں نہیں مَیں پکڑونگا۔مگر جب مقدمہ ہوتا ہے وہی مجسٹریٹ کہتا *إشاعة السنة جلد نمبر ۶ ص ۱۶۹