انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 545

حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ما ٔموریت کا دعویٰ کیا اور دُنیا کی اصلاح کا کام شروع کیا۔پس جب ان لوگوں سے جو قادیان اور اس کے نواح کے رہنے والے ہیں ہمارا کوئی دنیاوی اختلاف نہیں تو آپ لوگ جو دُور دُور کے شہروں سے آئے ہیں آپ کے اور ہمارے درمیان کوئی دنیاوی اختلاف کیونکر ہوسکتا ہے اور جب کہ ہمار اختلاف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے تو چاہئے کہ اس اختلاف کو ہم اسی رنگ میں مٹانے کی بھی کوشش کریں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐکے منشا کے مطابق ہو اور جس سے ان کی خوشنودی ہمیں حاصل ہو۔یہ نہایت ہی افسوس کا مقام ہوگا اگر ہم خدا تعالیٰ کے لئے آپس میں اختلاف کریں اورپھر اپنے اعمال اور اپنے اقوال سےاس کو ناراض کردیں۔اس صورت میں ہماری مثال شاعر کے اس مقولہ کے مطابق ہوجائے گی کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے دنیا تو ہم نے اختلاف سے کھودی اور دین اختلاف کے مٹانے کے لئے جو طریق ہم نے اختیار کیا اس سے برباد کردیا۔جب سے آدم علیہ السلام کی نسل دنیا میں پھیلی ہے اختلاف خیالات چلا آتا ہے اور جب تک اس زمین پر انسان بسے گا اختلاف ہوتا رہے گا۔پس یہ چاہنا کہ اختلاف خیالات دُنیا سے مٹ جائے ایک عبث خیال ہے جو نہ آج تک کسی سے پورا ہوسکا اور نہ آئندہ ہوسکے گا۔اختلاف طبائع ہی انسان کی ترقی کا باعث ہے۔اگر طبائع کا اختلاف نہ ہوتا تو آج اس قدر پیشے اور مشاغل دنیا میں کیونکر نظر آتے اور اس قدر علمی ترقی کس طرح ہوتی۔اسی امر کو مد نظر رکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ ٭ میری اُمّت کا اختلاف بھی رحمت ہوگا یعنی وہ اختلاف جو اختلاف طبائع کی حد کے اندر محدود رہے گا۔غرض اختلاف ہوجائے یا یہ کہ اختلاف کے وقت انسان اپنے آپ سے اسقدر باہر ہوجائے کہ تقویٰ اور دیانت کو بالکل چھوڑ بیٹھے اور اپنی بات کی پچ اسے اس قدرر ہوجائے کہ وہ اس کے ثابت کرنے اور منوانے کے لئے جھوٹ اور دھوکے سے بھی پرہیز نہ کرے اور خدا کے خوف کو بالائے طاق رکھ کر اپنی غلطی کو سمجھ کربھی اس پر *کنزالعمال جلد ۱۰ ص ۱۳۶