انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 506

رپورٹ کی کہ آپ نے ان کے مارنے کے لئے ایک آدمی بھیجا ہے اور ایک آوارہ طبع آدمی کو کئی قسم کے حیلوں اور مکروں سے اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ کہہ دے کہ مجھے انھوں نے پادری صاحب کے مارنے کے لئے بھیجا تھا۔تمام مذاہب کے لوگ اس پر جوش میں آگئے اورپادری صاحب کی مدد کے لئے کھرے ہوگئے اور خدا کا فرستادہ تمام دنیا کے مقابلہ میں اکیلا رہ گیا مگر اس کو اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کے اُٹھنے سے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ ایک فتنہ اٹھنے والا ہے جو گورنمنٹ سے تعلق رکھتا ہے مگر سوائے ظاہر ی خوف کے کوئی نقصان نہ ہوگا اور آخر میں تم بری کئے جائوگے۔انگریز ڈسڑکٹ مجسٹریٹ کیپٹن ڈگلس صاحب جو بعد میں چیف کمشنر انڈیا ہوئے ان کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا اور لوگوںمیں خوب خوشیاں کی جانے لگیں کہ اب مدعی مسیحیت خوب سزا پائے گا۔مگر جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہلے مسیح ؑکے وقت پیلا طوس پر حق کھول دیا تھا اس دفعہ بھی ایسا ہی ہوا اور کپتان ڈگلس کا دل اس نے کھول دیا اور اس نے بیان سُن کر صاف کہہ دیا کہ مقدمہ بناوٹی معلوم ہوتا ہے اور خبر دینے والا جھوٹا معلوم ہوتا ہے اور انہوں نے انگریز سپر نٹنڈنٹ پولیس کو ہدایت کی کہ وہ پورے طور پر تحقیق کرکے رپورٹ کریں۔انہوں نے یہ دیکھ کر خبر دہندہ مشن کمپائونڈ میں رہتا ہے شاید ان کے اثر کے نیچے اپنے بیان لکھوا رہا ہو۔اس کو وہاں سے بلوالیا اورپھر بیان لیا لیکن وہ شخص پادریوں سے اس قدر ڈرا ہوا تھا کہ پھر بھی اس نے وہی باتیں کہیں جو پہلے کہی تھیں مگر سپر نٹنڈنٹ صاحب نے اس سے کہا کہ جو کچھ راست راست ہے وہ بتاؤ اوراب ہم تمہیں مشن میں نہیں بھیجیں گے۔جب اسے یہ تسلّی ہوگئی کہ وہ واپس مشن کے حوالہ نہ کیا جائےگا تو وہ چیخیں مار کر رو پڑا اور اس نے کہا جو کچھ مجھ سے کہلوایا گیا ڈرا دھمکا کر کہلوایا گیا ورنہ مرزا صاحب بالکل بَری ہیں انھوں نے مجھ سے کبھی بات نہیں کی۔پادریوں نے مجھے دھمکا کر کہ اگر تو ہماری مرضی کے مطابق رپورٹ نہ کرے گا تو تجھ پر کوئی الزام لگا کر پکڑوا دیں گے مجھ سے یہ سب باتیں کہلوائی تھیں۔آخر جیسا کہ پہلے سے بتا دیا گیا تھا آپ ؑعزت کے ساتھ بری ہوئے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کیپٹن ڈگلس نے کہا کہ آپ ؑکو اختیار ہے کہ آپؑ ان لوگوں پر جھوٹا الزام لگانے کے متعلق عدالت میں چارہ جوئی کرکے ان کو سزا دلوائیں مگر آپؑ نے فرمایا ہمارا یہ کام نہیں ہم نے ان کو معاف کردیا۔اس مقدمہ میں دوسرے مذاہب کے سرداروں نے بھی آپ ؑکو زک دینے کے لئے پورا زور