انوارالعلوم (جلد 6) — Page 497
اورانہیں بھی خدا کی بادشاہت کی خوشخبری دے۔غرض آپ اسی طرح کی باتیں کرتےاور لوگوں کو کئی کئی رنگ میں سمجھاتے اوران مضامین کو جنہیں مَیں نے اوپر بیان کیا ہے۔مختلف لفظوں اور مختلف عبارتوں میں کبھی تحریر کےذریعے اور کبھی تقریر کےذریعے لوگوں تک پہنچاتے اور اس کے علاوہ اوربہت سی حکمت کی باتیں آپ کرتے اور دوسرے مذاہب کو بھی دعوت دیتے اور ان کی غلطیوں پر ان کو آگاہ کرتے اور خدا کا کلام ان کو سناتے اور جب آپ ؑکوئی مضمون لکھتے یا تقریرکرتے اوربہت لوگ دل میں ڈرتے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں سچ ہے پر بہت لوگ پادریوں اور پنڈتوں اور مولویوں کےکہنے پر یہ خیال کرتے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں ان کو دوسرے لوگ سکھاتے ہیں اور خود ان کو کچھ نہیں آتا اور اس طرح اقرار کرلیتے کہ جو کچھ آپؑ کہتے ہیں وہ ایسا اعلیٰ درجہ کا کلام ہے کہ آپ ؑکی طاقت سے بالا ہے مگر شبہات کی چاروں میں اس حقیقت کو لپیٹنے کی کوشش کرتے اوراپنے انکار میں اوربھی بڑھ جاتے۔جب مولویوں ،عالموں اور پادریوں نے دیکھا کہ آپ ؑکی باتیں لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہیں اور جو لوگ آپؑ سے ملتے ہیں آپ کے کلام کو سن کر متأثر ہوجاتے ہیں تو انہوں نے لوگوں میں یہ کہنا شروع کیا کہ اس کی باتیں مت سنو اور اس کی کتابیں مت پڑھو کیونکہ اس کا تعلق شیطان سے ہے اور یہ جادوسے لوگوں کے دلوں کا حق سے پھیر دیتا ہے اوراپنی جھوٹی باتیں ان کی نظروں میں اچھی کرکے دکھا دیتا ہے۔اورانہوں نے آپ کے خلاف لوگوں میں جوش پیدا کرنا شروع کیا اور پادریوں نے گورنمنٹ کو اُکسانا شروع کیا کہ یہ یسوع مسیح کی ہتک کرتا ہے اور مولویوں نے عوام الناس کو جوش دلانا شروع کیا کہ یہ کفر کی باتیں کرتا ہے کیونکہ وہ ڈرے کہ اگر اس کی تعلیم کو ہم نے نہ روکا تو لوگ اس کی باتوں کو قبول کر لیں گے اور ہماری حکومت جو لوگوں پر ہے جاتی رہے گی اور ایسا ہوا کہ ملک کے بڑے بڑے مولویوں نے مل کر ایک فتویٰ تیار کیا اور اس میں آپ کے خلاف اورآپؑ کے مریدوں کےخلاف خوب زہر اُگلا اور لکھ دیا کہ یہ شخص واجب القتل ہے اور دین سے خارج ہے اور اس کو نقصان پہنچانا ثواب کا موجب ہے اور اس کو اور اس کے ماننے والوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں بھی دفن نہیں ہونے دینا چاہئے اورہر ایک مذہب والے نے اپنی رائے سے اس پر الزام قائم کرنا چاہا اور یہ نہ دیکھا کہ خدا کی کتابیں اورا سکی رسولوں کی باتیں کیا ثابت کرتی ہیں؟ مگر اس تمام شورش کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک جگہ اس کے قلیل التعداد ماننے والے دُکھ دئیے جانے لگے اور لوگ اپنی