انوارالعلوم (جلد 6) — Page 496
منہ سے اسے کے جھُوٹے ہونے کا اقرار کرتے ہو اور اس کے دشمنوں کو اس پر ہنسنے کا موقع دیتے ہو۔لعنت تو خدا سے دُوری کو کہتے ہیں پھر تم کس طرح کہتے ہو کہ مسیح خدا کا پیار ابھی تھا اورپھر اس کا دل خدا سے پھر گیا؟ خدا سے دل سوائے بدکار کے کسی کا نہیں پھرتا اور اس سے نفرت سوائے سرکش کے کوئی نہیں کرتا پھر تم کیوں یسوع مسیحؑ کو جو خدا کا پیار ااور محبوب تھا لعنی قرار دیتے ہو؟ کیا پڑھتے نہیں کہ: ’’اس زمانہ کے بد اور حرام کا ر لوگ نشان ڈھونڈتے ہیں۔پر یونسؑ نبی کے نشان کے سواکوئی نشان انہیں دکھایا نہ جائے گا۔کیونکہ جیسا یونسؐ تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابنِ آدم ؑتین رات زمین کے اندر رہے گا۔‘‘ (متی باب ۱۲ آیت ۳۹ ،۴۰ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ۱۸۷۰ء) پھر کیوں نہیں غور کرتے کہ کیا یونس ؑمرکر مچھلی کے پیٹ میں گیا تھا؟ کہ ابن آدمؑ صلیب پر مرکر قبر میں رکھا جائے؟کیا یونس ؑتین دن رات مچھلی کے پیٹ میں مردہ رہا تھا یا زندہ؟ پھر کیوں ابن آدم ؑتین دن رات زمین میں مُردہ رہے؟ عقلمند ہوکر کیوں اپنی آنکھیں بند کرتے ہو؟ اور اپنے استاد کو گنہگار ٹھہراتے ہو تا تم راست باز ٹھہرو۔یونس زندہ ہی مچھلی کے پیٹ میں گیا اور زندہ ہی رہا اور زندہ ہی نکلا۔اسی طرح ابن آدم زندہ ہی قبر میں گیا اور زندہ ہی وہاں رہا اور زندہ ہی وہاں سے نکلا اور یروشلم کو خدا کا یہ نشان دکھایا گیا کہ کس طرح خداوند خدا زندگی اور موت کا خدا صلیب پر سے اپنے بندہ کو زندہ اتارتا اور دشمن کی آنکھوں کے سامنے اسے موت سے بچا لیتا اور خود مخالفوں کے ہاتھوں سے اپنی باتیں پوری کروالیتا ہے۔تمہیں کیا ہوگیا کہ تم پڑھتے ہو کہ وہ قبر میں سے نکلنے کے بعد چھپ کر یروشلم میں پھرتا رہا اور اس نے اپنے زخم تھوما کو دکھائے اور حواریوں سے کہا کہ: ’’میرے ہاتھ پاؤں کو دیکھو کہ میں ہی ہوں اور مجھے چھوئوا ور دیکھو کیونکہ روح کو جسم اور ہڈی نہیں جیسا مجھ میں دیکھتے ہو اور یہ کہہ کہ انہیں اپنے ہاتھ اور پائوں دکھائے۔‘‘ (لوقا باب ۲۴آیت ۳۹ ،۴۰ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ۱۸۷۰ء) اور پھر ان سے لیکر اس نے کھانا بھی کھایا مگر پھر یقین نہیں کرتے کہ خدا نے اسے صلیب کی لعنتی موت سے بچایا اورصرف موت کے ہمرنگ حالت میں سے گزارکر اوریونسؑنبی کا سا معجزہ دکھا کر لوگوں پر حجت قائم کردی اور پھر اسے موقع دیا کہ وہ بنی اسرائل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو تلاش کرے