انوارالعلوم (جلد 6) — Page 467
مگر افسوس ! کہ مسیحؑ کے کلام پر غور نہ کیا اور جو کچھ اس نے تمثیلوں میں سمجھایا تھا اسے سمجھنے کی کوشش نہ کی اور اس پر ایمان لاتے ہوئے اس کے منکروں کی طرز اختیار کی۔اس نے تو خود سمجھا دیا تھا کہ ’’ کوئی آسمان پر نہیں گیا۔سوا اس شخص کے جو آسمان پر سے اترا۔‘‘ (یوحنا باب ۳ آیت نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعیہ ۱۸۷۰ء) پھر ان لوگوں نے کیونکر جانا کہ وہ جو ناصرہ میں پیدا ہوا وہ اس جسم کے ساتھ آسمان پر گیا اور دوبارہ اس جسم کے ساتھ آسمان پر سے اُترے گا؟ یقیناً وہ اسی طرح آسمان پر گیا جس طرح وہ اتر اتھااور دوبارہ بھی اس نے اسی طرح آنا تھا جس طرح کہ وہ پہلی دفعہ آیا تھا۔ہر ایک جو ٹھوکر کھاتا ہے افسوس کے قابل ہےمگر اس کی حالت بہت ہی زیادہ قابل افسوس ہے جو دوسرے کو ٹھوکر کھاتے ہوئے دیکھتا ہے اورپھر نہیں سنبھلتاکیونکہ پہلا کہہ سکتا تھا کہ مَیں بے خبری میں گرا کیونکہ اس نے اپنے اگلے کو گرتے دیکھا اور پھر بھی نہ سنبھلا اور وہیں قدم مارا جہاں پہلے نے مارا تھا اور ٹھوکر کھائی تھی۔پس یہ زیادہ سزا کا مستحق ہوگا کہ بات کے ظاہر ہوجانے پر بھی اس نے سبق حاصل نہ کیا۔کیا ملا کی نبی کی کتاب میں نہ لکھا تھا کہ ’’دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر مَیں الیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔‘‘ (ملا کی باب ۴ آیت ۵نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) پھر کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ایلیا نبی آسمان سے نازل نہ ہوا بلکہ زمین پر یوحنا کی شکل میں ظاہر ہوا اورانہوں نے جو اپنے دلوں میں کجی رکھتے تھے اس کے سبب سے ٹھوکر کھائی اور مسیحؑپر ہنسی ٹھٹھا کیا اور کہا کہ اگر تُو مسیح ہے تو الیاس کہاں ہے جس کا مسیح سے آنا ضروری تھا بلکہ خود اس کے شاگردوں تک نے اس سے پوچھا کہ ’’پھر فقیہ کیوں کہتے ہیں کہ پہلے الیاس کا آنا ضرور ہے۔‘‘ (متی باب ۱۷ آیت ۱۰ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) کیونکہ خدا کے راز تبھی ظاہر ہوتے ہیں جب ان کے ظاہر ہونے کا وقت آجاتا ہے اورانہی پر ظاہر ہوتے ہیں جن پر خدا کے علوم کا دروازہ کھولا جاتا ہے۔چنانچہ مسیح نے لوگوں کو بتایا کہ الیاس