انوارالعلوم (جلد 6) — Page 443
صفت مالکیت کا جلوہ پھر صفات الٰہیہ نے اس سے بھی تنزّل اختیار کیا اور مالک یوم الدین کے رنگ میں جلوہ کیا ہر ایک انسان الگ الگ خدا کے حضور پیش ہوگا اس طرح خدا ہر ایک کے سامنے ہوگیا اور یہ صفت اتنی ظاہر ہوگی کہ جب قیامت کے دن لوگ خدا کے سامنے پیش ہوں گے تو نبی بھی کہیں گے نفسی نفسی ہر ایک کو اپنی اپنی فکر ہوگی کسی اور کی فکر نہ ہوگی ،حدیثوں میں آتا ہے رسول کریمؐفرماتے ہیں کہ جب ایسی حالت نفسی نفسی کہیں گے نبیوں کے پاس چلو اس پر وہ آدم ؑ ،نوح اور موسیٰؑکے پاس آئیں گے۔مگر وہ یہ سفارش خدا کے وعدہ کے مطابق ہوگی نہ کہ اپنےزور سے تب لوگوں کا خطرہ دور ہوگا۔٭ بندہ کا خدا تک پہنچنا اب جب بندہ اوپر چڑھے گا تو پہلے مالک کی صفت پر پہنچے گا۔پھر رحیمیت پھر رحمانیت پھر ربوبیت کی صفت پر اور پھر خدا کو دیکھ لے گا۔اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ بندہ کس طرح ان صفات کو اختیار کرے؟اوریہ سوال نہایت اہم اور قابل توجہ ہے پہلا جس قدر مضمون تھا وہ درحقیقت اس مضمون کے لئے بطور تمہید کے تھا۔بندہ کا مٰلک یوم الدین بننا یاد رکھنا چاہئے کہ بندہ سب سے پہلے مٰلک یوم الدین کی صفت کو حاصل کرسکتا ہے مٰلک یوم الدین کے معنی ہیں جزا ء و سزا کا فیصلہ کرنا اور جج بننا۔اس کیلئے یہ دیکھنا چاہئے کہ بندہ کے اندر جج بننے کی قابلیت ہے یا نہیں۔سو ہم جب انسان کی قوتوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے ہر بندہ مٰلک یوم الدین ہے اور وہ اس طرح کہ ہر انسان جب کسی کو کوئی کام کرتے دیکھتا ہے تو معاً اسکے متعلق ایک رائے لگا لیتا ہے خواہ کوئی چھوٹا بچہ ہو یا بڑا مَعمرّ انسان ،زمیندار ہو یا تعلیم یافتہ ،جب بھی کسی کو کوئی کام کرتے دیکھتا ہے تو اس پر رائے لگا لیتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ہر ایک انسان میں جج بننے کی قابلیت رکھی ہے خواہ کوئی ادنیٰ ہو یا اعلیٰ پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ اسکے اندر یہ قابلیت ہوتی ہے کہ وہ ججی کرتا ہے کبھی کسی کو نیک قرار دیتا ہے کسی کو بد ، کس کو شرارتی بناتا ہے،کسی کو بھلا مانس یہ ممکن ہی نہیں کہ انسانی آنکھوں کے سامنے سے کوئی چیز گذرے یا کسی اور حس کےذریعہ سے کسی امر کا علم ہو اور اسکے متعلق انسان کوئی فیصلہ نہ کرے۔پس ہر انسان جج ہے مگر یہ انسانی حالت مخفی ہے کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ دوسرا شخص اس پر جج بن رہا ہے جس طرح خدا *بخاری کتاب الانبیاء باب قول اللہ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ