انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 440

سکھائی کہ اب اس راستہ پر مجھے چلا۔جب ہم سورۃ فاتحہ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں صاف طور پر ایک روحانی راستہ نظر آتا ہے اور وہ راستہ سورۃ فاتحہ میں بیان کردہ چار صفات الٰہیہ ہیں مگر راستہ کا لفظ بتاتا ہے کہ ان صفات کے حاصل کرنے میں ایک ترتیب ملحوظ ہے پہلے ایک صفت کو انسان حاصل کرسکتا ہے اس کے بعد دوسری کو پھر تیسری کو اور ہم تبھی اس راستہ پر چلنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں جب ہمیں یہ بھی معلوم ہوجائے کہ کس ترتیب سے ان صفات کو اپنے اندر ہمیں پیدا کرنا چاہئے۔اس سوال کو حل کرنےکے بعد ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ جب بندہ کی طرف آتا ہے تو وہ تنزّل اور تشبہہ اختیار کرتا ہے ورنہ اس کی ذات وراء الوریٰ ہے اور جب ایک اعلیٰ ہستی جو وراء الوریٰ ہو وہ محدود سے ملنے کے لئے آئے تو یقیناً وہ تدیجاً تشبیہ اورتنزّل اختیار کرتی چلی جائے گی اس کے بغیر وہ اس سے کبھی مل نہیں سکے گی۔پس صفات الٰہیہ جتنی جتنی بندہ کے ساتھ تعلق زیادہ پیدا کرتی چلی جائیں گے وہ اسی قدر تنزّل اور تشبیہہ اختیار کرتی چلی جائیں گی اور اس کے مقابلہ میں بندہ جس قدر خدا تعالیٰ کےقریب ہونے کی کوشش کریگا اسی قدر وہ مادیت کو چھوڑ کر وسعت اختیار کرتا چلا جائیگا۔اس امر کو سمجھنے کے لئے یہ فرض کرلو کہ خدا تعالیٰ کے پاس جانے کا رستہ ایک بڑے دریا کی طرح ہے اس کا وہ نقطہ جدھر بندہ ہے اس کی مثال پہاڑ کی سی ہے اور وہ نقطہ جس طرف خدا تعالیٰ ہےاس کی مثال سمندرکی سی ہے۔محدود اورچھوٹے نقطہ کی طرف دیکھو دریا چھوٹا ہوتا چلا جائے گا اور وسیع نقطہ کی طرف وسیع ہوتا چلا جائے گا لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہوگا کہ جہاں وسعت ہوگی وہاں زور کم ہوگا اور جہاں تنگی ہوگی وہاں زور ہوجائیگا اور شور بھی بڑھتا چلا جائے گا۔یہی حال خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کا ہے وہ بھی جوں جوں اس نقطہ کے قریب ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے زیادہ وسیع ہوتی چلی جاتی ہیں اور ان کے اثر مخفی ہوتے چلے جاتے ہیں اور جوںجوں وہ بندوں کی طرف آتی ہیں ان کا دائرہ تنگ ہوتا چلا جاتا ہے اور ان کا ظہور زیادہ واضح ہوتا چلا جاتا ہے۔دنیامیں تو ہم یہ قاعدہ دیکھتے ہیں کہ چھوٹی چیز بڑھ کر بڑی شکل اختیار کرلیتی ہے۔جیسے بیج درخت کی شکل اختیار کرلیتا ہے یہی حالت انسانی ترقی کی ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی صفات جب ظہور کریں گی تو چونکہ وہ تنزّل اور تشبیہ اختیار کرتی ہیں اس لئے ان کا دائرہ تنگ ہوتا چلا جائے گا۔بالکل اسی طرح جس طرح دریا پہاڑ کی طرف چھوٹا ہوتا ہے یا جس طرح سورج کے لاکھوں میل