انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 431

بلکہ ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔اس کےذریعہ سے انسان ترقی کرتا ہے کیونکہ موت کے بعد ہی انسان ان وسیع قوتوں کو پاتا ہے کہ اِس دنیا کی عمر بھر کی ترقی اُس دنیا کے گھنٹوں کی ترقی کے برابر نہیں اتر سکتی۔خدا کی مخلوق کی وسعت قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا۔(الکہف:۱۱)کہ اگر سمندر سیاہی بن جائیں گے مگر یہ نہیں ہوگا کہ خدا کےبنائے ہوئے علوم ختم ہوجائیں۔خدا کے منکر تو ایک ذرہ پر خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے یہ بات معلوم کرلی اوریہ معلوم کرلی لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر تم تحقیقاتیں کر کرکے ان کو سمندر سے لکھتے جائو تو پھر بھی خدا کے خزانے ختم نہ ہوں گے یہ انسانی نقطۂ نگاہ کے مطابق غیر محدود ترقی علوم صفتِ واسع کے ماتحت ہے۔پھر یہ سوال ہوتا ہے کہ ہماری دنیا کی چیزیں تو ختم ہوجاتی ہیں۔مثلاً کوئلہ ہے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ تک یہ ختم ہوجائے گا ؟ ہمارے ملک میں کوئلہ کے ختم ہونے کے نتائج کو اچھی طرح نہیں سمجھا جاسکتا۔مگر یورپ کے اکثر کام چونکہ اس کی مدد سے ہورہے ہیں وہ اسے بہت بڑی مصیبت سمجھتا ہے غرض کہا جاتا ہے کہ اگر کوئلہ یا تیل ختم ہوجائے تو پھر دُنیا کیا کرے گی۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں خدا تعالیٰ کے متعلق آتا ہے کہ وہ کفایت کرنے والا ہے (قرآن میں تو یہ صفت فعل کے طور پر استعمال ہوئی ہے لیکن رسول کریمؐنے اسم کے طور پر اسے استعمال کیا ہے یعنی خدا کا نام کافی بتایا ہے) اب دیکھ لو اگر ایک چیز ختم ہونے لگتی ہے تو اس کی قائم مقام اور نکل آتی ہے کوئلہ ختم ہونےلگا تو تیل نکل آیا اب تیل کے ختم ہونے کا ڈر پیدا ہوا تو ایسی تحقیقاتیں ہو رہی ہیں کہ سورج کی شعاعوں سے یہ کام لے لیا جائے تو دُنیا جب گھبرا اُٹھتی ہے کہ اب مرے اس وقت مؤمن ہنستے ہیں کہ یہ لوگ کیسے نادان ہیں خدا کوئی سامان ضرور کریگا چنانچہ ایسا ہی ہوتا ہے۔خدا کو قادر ماننے کا اثر درحقیقت صفات الٰہیہ کو ماننے والا انسان ایک وسیع پلیٹ فارم پر کھڑا ہوتا ہے اور ساری دنیا اس کی نظروں میں حقیر ہوتی ہے۔مثلاً جو شخص خدا تعالیٰ کی صفت قدرت پر یقین رکھتا ہے وہ یہ بھی یقین رکھے گا کہ خدا نے ہر چیز کے اندازے اور قواعد مقرر کئے ہوئے ہیں یہ سمجھ کر وہ سارے بیہودہ ٹونے ٹوٹکوں سے