انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 419

کے یہ معنی ہیں کہ اے تمام صفات کے جامع خدا تیرا اتنا بڑا درجہ ہے کہ مَیں تیری طرف جھکتا ہوں اور اس رسول کا اوّل مؤمن ہوں۔بعض احادیث کا مطلب رویت الٰہی کے منکر یہ حدیث بھی پیش کرتے ہیں کہ لَنْ یَّرَی اَحَدٌ مِّنْکُمْ رَبَّہٗ (عزّوجلّ) حَتَّی یَمُوْتَ٭کہ تم میں سے کوئی اپنے رب کو نہ دیکھے گا جب تک مر نہ جائے مگر ہم کہتے ہیں کہ اس رئویت کے معنے وسیع نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت والی رؤیت بیان کرتے ہوئے اس کی نفی کی ہے کہ جب تک کسی پر موت نہ آجائے وہ اس قسم کی رؤیت نہیں پاسکتا اور یہ ہم بھی مانتے ہیں۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے ھَلْ رَئَیْتَ رَبَّکَ فَقَالَ نُوْرٌ اَنّٰی اَرٰہُ یعنی لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا آپؐنے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپؐنے فرمایا کہ وہ تو نور ہے مَیں اسے کس طرح دیکھ سکتا ہوں v؟اس حدیث سے بھی منکرین رؤیت استدلال کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا دیکھنا ناممکن ہے۔مگر یہ حدیـث سائل کے سوال کے جواب میں ہے۔ممکن ہے سائل نے خدا کی ذات کے متعلق پوچھا ہو کہ کیا آپؐنے اس ذات کو دیکھا ہے یا نہیں؟ اوراس کا جواب دیا گیا کہ میں اسے کیا دیکھ سکتا ہوں۔رؤیت الٰہی کے متعلق احادیث اب میں رؤیت کے دلائل بیان کرتا ہوں قیامت میں رؤیت کے متعلق بہت سی احادیث میں ذکرآتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے لئے رؤیت کا امکان ثابت ہے۔حدیث میں آتا ہے خَیْرُ الرُّؤیَا اَنْ یَّرَی رَبَّہٗ فِی الْمَنَامِ اَوْیَرَی اَبَوَیْہِ ٭کہ اچھی خواب وہ ہے کہ انسان خدا کو یا ماں باپ کو خواب میں دیکھے جو نیک ہوں۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا کو انسان دیکھ تو سکتے ہیں اور جب اور لوگ دیکھ سکتے ہیں تو موسٰی علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں دیکھ سکتے اسی طرح معبرین لکھتے ہیں کہ اگر کوئی خواب میں خدا کو دیکھے تو جنت میں جائے گا۔خوابوں کی تعبیریں صلحاء کی خوابوں پر رکھی گئی ہیں اگر یہ ٹھیک نہیں تو ان کو خوابیں کس طرح آئیں اوراگر خدا تعالیٰ کی رؤیت ناممکن ہے تو پھر علم تعبیر میں اسے بیان کیوں کیا گیا ہے؟ رؤیت کے مدارج غرض جو آیات یا روایات رؤیت الٰہی کے رد میں پیش کی جاتی ہیں ان کا وہ مطلب نہیں جو منکرین رؤیت سمجھتے ہیں اور دوسری آیات *مسند احمد بن حنبل جلد ۵ص ۴۳۳