انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 407

حضرت مسیح موعودؑ کے ایک الہام کا مطلب لوگ اس الہام پر اعتراض کرتے ہیں کیونکہ اس کے لفظی معنی یہ ہیں کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور روزہ کھولا کرتا ہوں اور لغوی معنے یہ ہیں کہ مَیں رُکتا ہوں اور روک کو دُور کرنے کے وقت کو پاتا ہوں مگر مراد یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ میں بعض صفات کو روک دیتا ہوں اور دوسرا وقت ایسا آتا ہے کہ مَیں انہیں جاری کرتا ہوں۔پس معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت ایسی ہے جو دوسری صفات سے کام لیتی ہے بعض کو آگے پیجھے کرتی ہے بعض کو روکتی ہے اور بعض کو جاری کرتی ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر اس الہام کا یہی مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ ایک وقت اپنی صفات کو روکتا اورپھر جاری کرتا ہے۔تو پھر اُفْطِرُا ور اَصُوْمُ کیوں کہا؟ یہ کیوں نہ کہدیا کہ میں صفات کو روکتا بھی ہوں اور کھولتا بھی ہوں۔الہام مسیح موعود کے پر حکمت الفاظ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی باتیں وسیع معنے رکھتی ہیں اور مَیں رُکتا ہوں اور کھولتا ہوں کہنے میں وہ لطف نہ ہوتا جو اُفْطِرُوَاَصُوْمُ میں ہے۔یہ الفاظ کہہ کر خدا تعالیٰ نے اپنے فعل کوروزہ دار کے فعل سے نشبیہ دی ہے اور تین موٹی موٹی باتیں ہیں جو روزہ دار میں پائی جاتی ہیں۔اول یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے رُکتا ہے جو اس کے قبضہ اوراختیار میں ہوتی ہیں۔مثلاً کھانا ہوتا ہے مگر وہ نہیں کھاتا۔گویا وہ احتیاج کے طور پر نہیں رُکتا بلکہ باوجود قدرت کے اپنی مرضی سے رکتا ہے اسی طرح جب افطار کرتا ہے تو بھُوک یا پیاس کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اپنے ارادے کے ماتحت اوراپنی خوشی سے ایسا کرتا ہے۔گویا اس مشابہت سے خدا تعالیٰ نے یہ بتایا کہ بعض صفات جن کو خدا تعالیٰ روکتا ہے اپنی مرضی سے روکتا ہے نہ بوجہ احتیاج کے اوربعض صفات جن کو کھولتا ہے ان کو بھی اپنی مرضی سے کھولتا ہے نہ کہ بسبب احتیاج کے۔دوسرے اس مشابہت سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے خالی رکنااندرونی تکان کے سبب سے بھی ہوسکتا ہے یعنی گو بیرونی مجبوری کوئی نہ ہو لیکن اپنے نفس میں تکان پیدا ہوجائے جیسے آدمی کا کھاتے کھاتے پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ کھانے سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے لیکن روزہ دار اس لئے کھانے سے نہیں رُکتا کہ وہ کھانہیں سکتا یا اس میں کھانے کی طاقت نہیں رہتی بلکہ