انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 406

تمام صفات الٰہیہ کا ظہور کس طرح ہوتا ہے؟ یہ سوال بھی قابلِ غور ہے کہ خدا تعالیٰ کی مختلف صفات ایک وقت میں کس طرح جاری ہوتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت ایسی بھی ہے جو بعض اصول کے مطابق بعض صفات کو جاری کرتی ہے اوربعض کو بند کرتی ہے۔یہ صفت بعض آیات قرآن کریم سے بھی مستنبط ہوتی ہےاور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات سے بھی معلوم ہوتی ہے اور اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے متعلق شافی کا لفظ استعمال فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ شافی ہے۔جیسے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول قرآن کریم میں نقل ہے کہ فَھُوَ یَشْفِیْنِ۔(الشعرآء :۸۱) حضرت مسیح موعودؑ پر خدا کی ایک خاص صفت کا اظہار حضرت مرزا صاحب ؑ بھی چونکہ نبی تھے اور آپؑنے لکھا ہے کہ نبی غوامض بیان کرنے کے لئے آتے ہیں یعنی مخفی امور نکال کر لوگوں کے سامنے پیش کردیتے ہیں۔تو آپؑنے اللہ تعالیٰ کی کئی صفتیں ایسی بیان کی ہیں جو خدا تعالیٰ نے آپؑپر کھولی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدا کی صفات میں سے ایک صفت ایسی بھی ہے جو مختلف صفات کی حدبندیوں کو ظاہرکرتی ہے۔اس صفت پر حضرت مسیح موعودؑکا مندرجہ ذیل الہام دلالت کرتا ہے۔’’اِنَّی مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْم وَاُفْطِرُوَ اَصُوْمُ۔‘‘ (تذکرہ صفحہ ۴۹۰ایڈیشن۔چہارم) اب نہ اُفْطِرُکا لفظ قرآن کریم میں خدا کے لئے آیا ہے اور نہ اَصُوْمُ کا۔اورجس طرح انسان کے لئے خدا کا کوئی اسم بنانا جائز ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف کوئی تشبیہی فعل منسوب کرنا بھی ناجائز ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو خود آپؑکے الہام میں اُفْطِرُوَاَصُوْمُ کے الفاظ استعمال کرکے بتایا ہے کہ اس کی صفات میں افطار وصوم کی مشابہ ایک صفت ہے جو صفات کے عمل کو جاری کرنے یا بند کرنے کا کام کرتی ہے اُفْطِرُ سے مراد یہ ہے کہ مَیں اپنی صفت کو جاری ہونے کا حکم دیتا ہوں اور اَصُوْمُ کا یہ مفہوم ہے کہ مَیں اپنی صفت کے ظہور کو روک دیتا ہوں۔