انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 394

نہ کھانا ورنہ فضلہ پیدا ہوکر بیمار ہوجائو گے۔مگر اس طرح تو گویا خدا ہی ان کے پاس آجاتا اور انسان کے لئے امتحان کی کوئی صورت ہی باقی نہ رہتی اور اس کی پیدائش کی غرض باطل ہوجاتی اس کے دائیں اوربائیں فرشتے ہوتے جو ہر وقت اسے ٹوکتے رہتے کہ یہ نہ کھانا وہ نہ کھانا اتنا نہکھائو اتنا کھائو۔فرض کرو ایک چیز آدمی کو کھانی مناسب نہ ہوتی۔مثلاً یہی فرض کرلو کہ ایک شخص کے لئے کدو مضر ہوتا جب وہ بازار سے خریدتا جھٹ ایک فرشتہ آتا اور اس سے چھین کر دکاندار کو واپس کرتا اور اس سے پیسے چھین کر اسے لاکر دیتا۔غرض یہ عجیب قسم کاکھیل بن جاتا جس سے انسان کی پیدائش کی غرض بالکل ہی باطل ہوجاتی۔معترض کہتے ہیں کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ معدہ ہی ایسا بنا دیاجاتا کہ جس قدر انسان کے جسم کے لئے ضرورت ہوتی اتنی چیز جذب کرلیتا۔اورباقی نکال دیتا لیکن اس کا مطلب یہ ہوا کہ معدہ کے اندر بھی ایک دماغ بنایاجاتا جو موجودہ دماغ سے بھی اعلیٰ ہوتا اوراسے پوری طرح طب کا علم بھی ہوتا کہ جو چیز مضر ہوتی فوراً اسے نکال کر باہر پھینک دیتا۔مگر کیا اس سے انسان کی انسانیت کچھ باقی رہ جاتی کیا وہ ایک مکمل مشین نہ بن جاتا جس کا اس کے اعمال پر کچھ بھی تصرف نہ ہوتا اورجب اس کا اس کے اعمال پر تصرف نہ ہوتا تو وہ ترقیات کا مستحق کس طرح بنتا اورپھر کیا جو چیز مضر معدہ میں جاتی اس کا نکال کر پھینک دینا خود ایک تکلیف دہ عمل اوربیماری نہ کہلاتا۔خارجی اثرات سے بیماری پھر خارجی اثرات سے پیدا ہوتی ہے۔مثلاًسردی لگ جاتی ہے جس سے کبھی گردوں میں درد ہوجاتی ہے یا کوئی اورتکلیف پیدا ہوجاتی ہے اس لئے بیماری نہ ہونے کے یہ معنی ہوئے کہ کوئی اثر انسان محسوس نہ کرتا نہ اسے سردی لگتی نہ گرمی۔گویا ایک نئی قسم کا انسان ہوتا گرم گرم روٹی اور ٹھنڈا پانی اس کے لئے کوئی حقیقت نہ رکھتا۔گرم لحاف اورپہاڑوں کی خوش کن ٹھنڈی ہوا اس کے لئے بے حقیقت ہوتی کیونکہ اس پر سردی گرمی کا کوئی اثر نہ ہوسکتا۔اب کسی سے دریافت کرو کہ آیا وہ یہ پسند کرتا ہے کہ اسے کبھی بیماری نہ ہو اور اس کی ساری حِسیں ماری جائیں یا حِسوں کا باقی رہنا اور بیماری کا امکان پسند کرتا ہے؟ پھر زبان ناک وغیرہ کی جو حِسّیں ہیں ان کا غلط استعمال بیماری پیدا کرتا ہے۔زبان کا مزا بعض دفعہ طاقت سے زیادہ کھانے کا موجب ہوتا ہے۔بیماری کے اسباب مٹانے کے یہ معنی ہیں کہ زبان کا مزا باطل کردیاجائے مٹی اور شکر انسان کے منہ میں یکساں معلوم ہوں کڑوا اور میٹھا دونوں اس