انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 362

درستی پیدا ہونے لگے گی دوسرےدُعا کرانےوالا کبھی یہ فرض نہیں کرتا کہ اس شخص کو خدا تعالیٰ نےکوئی طاقت دیدی ہےبلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی دُعا کو بوجہ اس کی نیکی کے خدا زیادہ سُنتا ہے۔مگر یہ ضرور شرط ہے کہ جس سے انسان دُعا کرائے اس کے متعلق یہ خیال ہرگز نہ کرے کہ اس کی سب دُعائیں اللہ تعالیٰ سنتا ہے اگر ایسا سمجھے گا تو وہ مشرک ہوجائیگا خدا تعالیٰ کے استغناء کو اسےضرور مدِّ نظر رکھنا چاہئے۔مُردہ سے دُعا کرانا شرک ہے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر دوسرے سے دُعا کرانا شرک نہیں اور ادھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مُردے سنتے ہیں اور احادیث سے بھی یہ امر ثابت ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مُردوں سے دُعا کرانا شرک ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان امور کے لئے کسی زندہ سےالتجا کرنا بھی شرک ہے جو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں اورطبعی قانون سے بالا ہیں۔پس مُردے سے کیونکر جائز ہوسکتا تھا زندہ سے انسان دُعا کرتا نہیں بلکہ اس سے دُعا کراتا ہے۔اگر کہا جائے کہ مُردے سے دُعا کرانا تو پھر شرک نہ ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مُردے گو سنتے ہیں مگر ان کا سننا خدا تعالیٰ کے خاص حکم کے ماتحت ہوتا ہے وہ انسانوں کی طرح ہرایک بات جو ان کی قبر پر کہی جائے نہیں سنتے۔ہاں ان کی رُوح کو اپنے دنیوی عزیزوں سے ایک تعلق پیدا کرانے کیلئے بعض امور ان کو سنائے جاتے ہیں۔پس ایسے وجودوں سے دعا کرانے کی خواہش کرنا جن کا ہر ایک بات سننا بھی یقینی نہیں بلکہ خدا کے خاص حکم کے ماتحت ان کو باتیں سنائی جاتی ہیں اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے اتنی دیر انسان خدا سے ہی کیوں دعا نہ کرے۔ہاں اگر کشف یا وحی سے کسی انسان کو کسی مُردہ بزرگ کی زیارت کرائی جائے اور اس پر منکشف ہوجائےکہ اسے اس کے لئے دُعا یا شفاعت کی توفیق دی جائے گی اور وہ اس سے دُعا کے لئے کہے تو یہ جائز ہوگا بلکہ یہ خدا تعالیٰ کی حکمتوں میں سے ایک حکمت ہوگی جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے باریک روحانی علم دیا گیا ہےاگر یہ حالت نہ ہو تو جو شخص اس خیال سے مُردہ سے دُعا کراتا ہے کہ وہ ضرور اس کی باتیں سن رہا ہے اور ضرور دعا کرے گا اور ضرور اس کی سُنی جائیگی۔وہ مشرک ہےاور مُشرکانہ فعل کرتا ہے اور جو شخص سمجھتا ہے کہ طبعی قانون کے ماتحت رہے یہ اور دنیا میں ہیں خدا کا خاص فعل ان کو دنیا کی آوازیں سنا سکتا ہے اور خدا کی خاص اجازت سے ہی یہ دُعا کرسکتے ہیں اور خدا چاہے تو ان کی سُنے اور چاہے تو نہ سُنے تو ایسے شخص کا مُردہ سے دعا کی خواہش کرنا شرک نہ ہوگا۔ہاں بسا اوقات ایک عبث فعل اور وقت کا ضائع کرنا ہوگا اور بسا اوقات مکروہ ہوگا اوربسا اوقات ناجائز ہوگا گو شرک کی حد تک نہ پہنچے کیونکہ