انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 355

شخص اندر تھا اس نے کہا آجائو۔وہ اندر آگئے تو دیکھا ایک پاہج لیٹا ہے جب اس کو انہوں نے اپنا پتہ بتایا کہ مَیں فلاں ہوں تو وہ رو پڑا کہ مَیں مدت سے دعائیں کر رہا تھا کہ خدا مجھے آپ کی زیارت کرائے معلوم ہوتا ہے خدا تعالیٰ آپ کو میرے لئے ہی لایا ہے۔وہ رات بھر وہاں رہے۔صبح دوسرا ہرکارہ آگیا کہ آپ کو اب آنے کی ضرورت نہیں رہی واپس چلے جائیں اس سے ان کو اور بھی یقین ہوگیا کہ یہ ایک الٰہی تدبیر تھی۔جس طرح وہ اپاہج جو چلنے پھرنے سے مجبور تھا اس بزرگ تک پہنچ گیا تھا۔اسی طرح ہم جو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے معاملہ میں اپاہجوں سے بھی بدتر ہیں خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں یعنی وہ خود ہم تک آئے اور اپنے وجود کو ہم پر ظاہر فرمائے اور وہ ایسا ہی کرتا ہے اوراپنی ملاقات کےپیاسوں کو خود آکر اپنے شربت دیدار سے سیراب کرتا ہے خدا کی معرفت کس طرح حاصل ہوتی ہے؟ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا علم تو ہمیں الہام کےذریعہ سے ہوجائے گا لیکن اس کی معرفت ہمیں کس ذریعہ سے حاصل ہوسکتی ہے۔کیونکہ خالی علم اس تعلق کے لئے کافی نہیں جو خالق اور مخلوق کے درمیان ہونا چاہئے۔اس کا جواب یہ ہے کہ کسی چیز کی معرفت کامل حاصل کرنے کے تین طریق ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ اس چیز کو پکڑ کر سامنے کردیا جائے اور دوسرا آدمی اسے خوب اچھی طرح ٹٹول ٹٹال کر دیکھ لے اور اس کی پوری معرفت پیدا کرلے۔مثلاً ایک شخص کا نام سیف اللہ ہو۔جس نے اسکو نہ دیکھا ہو وہ اگر اس کی معرفت حاصل چاہے تو سیف اللہ کو پکڑ کر اس کے سامنےکردیں گے کہ وہ یہ شخص ہے۔دوسرا طریق یہ ہے کہ اس چیز کی بناوٹ کو تفصیل کے ساتھ بیان کردیا جائے مثلاً کسی ملک میں میز اور کرسی کا اگر رواج نہ ہو اور اسی ملک کے لوگ برسبیل تذکرہ میز و کرسی کا نام سنیں تو ان کو واقف کرنےکے لئے یہ ذریعہ اختیار کیا جائے گا کہ میز اورکرسی کی شکل اور بناوت اوران کا کام تفصیل سے ان کو بتا دیاجائے گا اور اس سےایک اندازہ انکے ذہن میں میز اور کُرسی کی نسبت پیدا ہوجائے گا تیسرا طریق یہ ہے کہ جو ان چیزوں کے متعلق استعمال کیاجاتا ہے جو مرئی نہیں ہیں یہ ہے کہ ان کی صفات کےذریعہ سے ان کی معرفت کرائی جاتی ہے۔مثلاً نور ہے یہ ایسی چیز نہیں کہ اس کی بناوٹ بیان کرسکیں اس لئے ایک اندھے کےسامنے اس کی صفات ہی بیان کی جائیں گی۔اسکےذریعہ سےآنکھ بغیر ٹٹولنے کے معلوم کرلیتی ہے