انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 296

حقیقت پھر بھی حل نہ ہوئی کیونکہ یہ سوال پھر بھی باقی رہے گا کہ وہ چیز کس طرح پیدا ہوئی؟ اور دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ مخفی ضرورت یا خواہش کے ماتحت اس نے آپ کو ظاہر کردیا وہ ضرورت یا خواہش کس نے پیدا کی۔اگر اس کا کوئی اور خالق تھا تو اسے کس نے پیدا کیا تھا اور اگر نہیں تھا تو وہ پیدا کیونکر ہوگئی۔اگر کہو کہ آپ ہی آپ۔توپھر دُنیا کے متعلق ہی کیوں نہ مان لیا جائے کہ وہ آ پ ہی آپ ہی پیدا ہوگئی ہے۔اگر کہیں کہ پہلی حالت عدم کی تھی نہ کہ وجود کی اس لئے عدم میں تھی تو ماننا پڑے گا کہ عدم دو اسم کےہوتے ہیں ایک وہ عدم جس میں ظاہر ہونے کی قابلیٹ ہوتی ہے اور ایک وہ جس میں یہ قابلیت نہیں ہوتی۔لیکن انسانیذہن اس امر کو تسلیم نہیں کرسکتا کیونکہ اگر جو چیز محض عدم ہو اس میں کوئی طاقت خواہ مخفی ہو خواہ ظاہری رہ نہیں سکتی۔تیسرا خیال یہ ہے کہ دنیا کو کسی اور وجود نے پیدا کیا ہے اور یہی خیال مذہبی لوگوں اور فلاسفروں کا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا ایک صفت کی طرح ہے مگر یہ خیال بھی درست نہیں کیونکہ (۱) دُنیا صفت نہیں بلکہ اس میں ایک ارتقاء ہے ایک چیز ہمیں نظر آتی ہے جو برابر ترقی کرتی جاتی ہے۔پس اسے صفت قرار دینا بالکل غلط ہے صفت تو وہ تب ہوتی اگر یکدم بنتی۔لیکن جبکہ وہ بعض قوانین کے مطابق ترقی کرتے کرتے اس حالت کو پہنچی ہے تو معلوم ہوا کہ وہ آپ ہی آپ ہے۔کسی اور ہستی کی پیدا کردہ نہیں ہے۔(۲) پھر یہ سوال ہے کہ اس نے اس دنیا کو کس چیز سے پیدا کیا ہے؟ ضاّع لو ہے چاندی کی چیزیں تو بنا سکتا ہے مگر وہ لوہا۔چاندی نہیں بنا سکتا۔پھر اس دُنیا کو کس چیز سے بنایا؟ آپ بنا ہوا تھا تو کیوں آپ ہی آپ جڑ نہیں سکتا تھا اور اگر اسے کسی اور ہستی نے پیدا کیا ہے تو اسے عقل تسلیم نہیں کرتی۔(۳) فضا ء کو بھی مخلوق ماننا پڑے گا کیونکہ اگر مادہ بعد میں پیدا ہوا ہے تو ضرور ہے کہ خلا بھی بعد کی ہے شئے ہو اور جہات بھی بعد کی مخلوق ہوں۔مگر خلا سے خَلو اور جہالت سے آزادی انسان ذہن میں نہیں آسکتی۔(۴) اسی طرح پھر یہ سوال بھی پیدا ہوگا کہ جس نے اس دُنیا کو پیدا کیا ہے اسے کس نے پیدا کیا ہے؟