انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 267

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ علی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ہستی باری تعالیٰ آج مَیں ایک ایسے مضمون کے متعلق تقریر کرنی چاہتا ہوں جو سب مضامین کا جامع ہے اور سب مضامین اس کے گرد چکر لگاتے ہیں اور سب اس کے تابع ہیں اور یہ ان کا متبوع ہے۔میں اس وقت تک جس قدر مضامین بیان کرتا رہا ہوں وہ سب اس مضمون کے اجزاء اور اس کی شاخیں تھیں اور آئندہ بھی مجھے جو کچھ توفیق ملے اسی کی تشریح ہوگی۔اس مضمون کو خواہ کس قدر بھی سنایا جائے ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ایک غیر محدود ہستی سے تعلق رکھتا ہے اور اس وجہ سے غیر محدود ہوگیا ہے۔آپ لوگ جس قدر بھی اس مضمون پر غور کریں گے اس کے مطالب کو غیر محدود پائیں گے اور نئے سے نئے مطالب آپ پر ظاہر ہوں گے۔سب انبیاءؑ نے اس مضمون کو بیان کیا ہے مگر بالآخر یہی کہا کہ لو مضمون بیچ میں ہی رہ گیا اور ہم جاتے ہیں۔غرض سب انبیاء اور اولیاء یہی کہتے آئے ہیں کہتے رہے ہیں اور جب تک یہ دُنیا رہیگی کہتی رہے گی اور مرنے کے بعد خلاء میں بھی یہی مضمون ہوگا۔یہ مضمون ہے۔ذات باری ذات باری یعنی اللہ کا مضمون بہت وسیع مضمون ہے اور تمام مضامین اس سے نکلتے ہیں دیکھو ملائکہ کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ کی مخلوق اور اس کی طرف سے مختلف کاموں پر مقرر ہیں۔نبی کیا ہیں؟خدا تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے بھیجے ہوئے۔آسمانی کتابیں کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ کا کلام۔دُعا کیا ہے؟