انوارالعلوم (جلد 6) — Page 222
لئے وہی اس کے محرّک ہیں۔اس کے آگے ذاتی عیوب کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کا سمجھنا بغیر تفصیل کے بیرونجات کے لوگوں کے لئے مشکل ہے اس اس کاخلاصہ یہ ہے کہ اہل بیت لوگوں کو ورغلا رہے ہیں اوربزرگان سلسلہ کو بدنام کررہے ہیں اور جماعت کو اُکسایا ہے کہ احمدی جماعت کو اس مصیبت سے بچانے کی کوشش کریں اور راقم ٹریکٹ سے اس امر میں خط و کتابت کریں۔ٹریکٹ لکھنے ولاکون تھا؟ اس ٹریکٹ کے آخر میں گو نام نہ تھا۔مگر چند باتیں اس کی اس قسم کی تھیں جو صاف طور پر تلاتی ہیں کہ ان ٹریکٹوں کے لکھنے والے کون تھے؟ اوّل :- یہ تمام کے تمام ٹریکٹ لاہور سے شائع ہوتے تھے جو اس وقت مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیالوں کا مرکز تھا۔مرکز کے لفظ سے یہ مراد نہیں کہ اس وقت بھی قادیان کے مقابلہ پر لاہور کو مرکز ظاہر کیا جاتا تھا۔بلکہ بوجہ اس کے کہ مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی کے اکثر آدمی وہاں ہی رہتے تھے اور اخبار پیغام صلح ان کا آرگن بھی وہیں سے شائع ہوتا تھا۔لاہور اس وقت بھی مرکز کہلانے کا مستحق تھا گو کُھلم کُھلا طور پر حضرت خلیفہ اوّل کی وفگات پر اسے مرکز قرار دیا گیا ہے۔۲:- اکثر جگہ پر یہ ٹریکٹ پیغام صلح کی مطبوعہ چِٹوں میں بند شدہ پہنچا تھا جس سے ساف معلوم ہوتا ہے کہ دفتر پیغام صلح سے یہ بھیجا گیا تھا۔یا یہ کہ پیغام صلح کے متعلقین اس کی اشاعت میں دخل رکھتے تھے۔۳ :- اس ٹریکٹ کا لکھنے والا لوگوں سے چاہتا ہے کہ وہ اس سے اس کے مضمون کے متعلق خط و کتابت کریں لیکن اپنا پتہ نہیں دیتا جس سے طبعاً یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ پتہ نہیں دیتا تو لوگ اس سے خط و کتابت کیونکر کریں؟اورمعلوم ہوتا ہے کہ اس نے پہلے پتہ لکھا ہے پھر مصلحتاً اسے کاٹ دیا ہے لیکن چونکہ اصل مضمون میں سے یہ عبارت کے لوگ اس خط و کتابت کریں نہیں کٹی ہوئی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مضمون چھپنا شروع ہوگیا ہے تب پتہ کاٹنے کا خیال ہوا اور چونکہ اصل مضمون کا کوئی حصہ کاٹنے میں دیر لگتی تھی اور عبارت خراب ہونے کا خطرہ تھا اس لئے اسے اسی طرح رہنے دیا ہے۔اب ہم بعض ٹریکٹوں کو دیکھتے ہیں تو ان پر سے اُنگلی سے رگڑ کر مضمون کے خاتمہ پر کچھ عبارت کٹی ہوئی ہے اور بعض ٹریکٹ ہمیں ایسے بھی ملتے ہیں جن پُر ’’معرفت اخبار‘‘کالفظ کٹنے سے رہ گیا ہے اور باقی کٹا ہوا ہے۔یہ الفاظ ’’معرفت اخبار‘‘ کے صاف طور پر بتلاتے ہیں کہ پہلے خط و کتابت