انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 215

تھا۔جسے احمدی جماعت بھی کثرت سےخریدتی تھی اورخطرہ تھا کہ بعض لوگ اس کے زہریلے اثر سے متأثر ہوجاویں۔چنانچہ مَیں نے اس کے لئے خاص کوشش شروع کی۔اور حضرت خلیفۃ المسیح سے اس امر کی اجازت حاصل کی کہ قادیان سے ایک نیا اخبار نکالا جائے جس میں علاوہ مذہبی امور کے دنیاوی معاملات پر بھی مضامین لکھے جاویں تا کہ ہماری جماعت کے لوگ سلسلہ کے اخبارات سے ہی اپنی سب علمی ضروریات کو پورا کرسکیں۔جب حضرت خلیفۃ المسیح سے اجازت حاصل کرچکا تو مجھے معلوم ہوا کہ لاہور سے ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب ،ڈاکٹر سیّد محمد حسین شاہ صاحب اورشیخ رحمت اللہ صاحب بھی ایک اخبار نکالنے کی تجویز کر رہے ہیں۔چنانچہ اس بات کا علم ہوتے ہی مَیں نے حضرت خلیفۃالمسیح کو ایک رقعہ لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ لاہور سے مجھے اطلاع ملی ہے کہ فلاں فلاں احباب مل کر ایک اخبار نکالنے لگے ہیں چونکہ میری غرض تو اس طرح بھی پوری ہوجاتی ہے۔حضور اجازت فرما دیں تو پھر اس اخبار کی تجویز رہنے دی جاوے۔اس کے جواب میں جو کچھ حضرت خلیفۃ المسیح نے تحریر فرمایا اس کا مطلب یہ تھا کہ اِس اخبار اور اُس کے جواب میں جو کچھ حضرت خلیفۃ المسیح نے تحریر فرمایا اس کا مطلب یہ تھا کہ اِس اخبار اور اُس اخبار کی اغراض میں فرق ہے آپ اس کے متعلق اپنی کوشش جاری رکھیں۔اور ارشاد کے ماتحت میں بھی کوشش میں لگا رہا۔پیغامِ صُلح اورالفضل کا اجراء جون ۱۹۱۳؁ء کے ابتداءمیں اخبار پیغام صلح لاہور میں شائع ہوا اور وسط میں ’’الفضل‘‘ قادیان سے نکلا۔بظاہر تو سینکڑوں اوراخبارات ہیں جو پہلے سے ہندوستان میں نکل رہے تھے دو اخبارات کا اضافہ معلوم ہوتا تھا مگر درحقیقت احمدی جماعت کی تاریخ میں ان اخبارات کے نکلنے نے ایک اہم بات کااضافہ کردیا۔پیغامِ صُلح کی روش پیغام صلح کے نکلنے سے وہ مواد جو خفیہ خفیہ جماعت میں پیدا ہورہا تھا پُھوٹ پڑا اور کُھلے بندوں سلسلہ کی خصوصیات کو مٹانے کی کوشش کی جانے لگی۔قادیان کی جماعت خاص طور پر سامنے رکھ لی گئی اورسلسلہ کے دشمنوں سے صُلح کی داغ بیل پڑنے لگی۔اصل غرض تو شاید اس رسالہ سے خواجہ صاحب کے مشن کی تقویت تھی مگر طبعاً ان مسائل کو پھر چھیڑنا پڑگیا جو مابہ النزاع تھے۔غیر احمدیوں میں اس اخبار کی اشاعت کی غرض سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مرزا صاحب علیہ الرحمۃ لکھا جانے لگا اور دشمنانِ سلسلہ کی تعریف کےگیت گائے جانے لگے۔ترکوں کے بادشاہ کو خلیفۃالمسلمین٭ کےلقب سے یاد کیا جانے لگا۔*ترلالی شہوار یعنی وہ اشعار آبدار جو مولوی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر زمیندار نے ۲۴ رجب کو بارگاہ سلطان العظم