انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 128

Much notice of this book (Nabi-ullah ka Zuhur by Zahirud Din) does not seem to have been taken by the Ahmadiyya community۔But probably the contents of this book or some other leaf-let on the same subject were brought to the notice of the late Maulvi Nurudin sahib then head of the Ahmadiyya community and after some correspondence between Zahir-ud-Din and Maulvi sahib an announcement was made by the latter in the paper Badr 11th July 1921 to the effect that as Mr۔Zahiruddin was promulgating new doctrines he was not to be considered as promulgating new doctrines he was not to be considered as having any connection with the Ahmadiyya community۔مولوی صاحب کے اس بیان میں مندرجہ ذیل باتیں قابل غور ہیں۔(۱) حضرت خلیفۃ المسیح کے سامنے ظہیر کی کتاب ’’نبی اللہ کا ظہور ‘‘ یا اسی کے ہم معنی مضمون کا کوئی رسالہ پیش کیا گیا تھا۔(۲) اس پر آپ کے اور ظہیر الدین کے درمیان خط و کتابت ہوئی۔گویا اس رسالہ کو پڑھ کر حضرت خلیفۃ المسیح نے ظہیر الدین کو خط لکھا۔(۳)خط و کتابت سے جب کوئی فائدہ نہ ہوا۔توآپ نے اعلان کیا کہ ظہیر الدین چونکہ نئے عقائد شائع کر رہا ہے اس لئے اس کا میری جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ان تینوں امور کے متعلق پیشتر اس کے کہ مَیں تفصیلی طور پر کچھ لکھوں۔شروع میں ہی اتنا کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ تینوں باتیں غلط ہیں اور سوچ سمجھ کر لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے بنائی گئی ہیں۔واقعہ ظہیر الدین کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کی پہلی غلطی اس میں کوئی شک نہیں کہ ظہیر الدین اس وقت بعض ایسے عقائد کا اظہار کرتا رہا ہے جو اسلام اور حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیم کے سراسر خلاف ہیں۔مگر اس کی کتاب نبی اللہ کے ظہور میں ایسی کوئی بات نہیں اور نہ کبھی جماعت احمدیہ نے اس کی اس کتاب کو ناپسندیدگی سے دیکھا۔کیا رسالہ نبی اللہ کا ظہور کی وجہ سے حضرت خلیفہ اوّل ظہیر پر ناراض ہوئے مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ (۱) ظہیر الدین کی یہ کتاب یا اس کے ہم معنی کوئی ٹریکٹ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔جس پر آپ ناراض ہوئے۔حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔آپ ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کےظہور پر ناراض نہیں ہوئے۔جس کا ثبوت مندرجہ ذیل واقعہ سے نکلتا ہے۔۱۹۱۱ء؁و ۱۹۱۲؁ءمیں مولوی یار محمد صاحب