انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 120

آفت عظیمہ پر آگاہ کرتے اور میرے جماعت سے خارج کرنے پرزور دیتے اور اس طرح فتنہ عظیمہ کو دُور کرکے اجر عظیم حاصل کرتے۔مگر بجائے اس کے آپ نے اس وقت میری تعریف کی۔کیا اپ بھی انہی لوگوں میں سے تھے جن کی نسبت آج اپنی کتاب سپلٹ میں لکھتے ہیں کہ :- Being brought up within the circle of admirers of his father be contracted the narrow views which fall to the lot of young men brought up under similar circumstances۔P۔23 ۵ اور کیا صرف خوشامد کے طور پر آپ نے یہ ریویو لکھ دیا تھا یا آپ جانتے تھے کہ مسیح موعودؑ نبوت کا دعویٰ رکھتے ہیں اور آپ اس وقت زندہ موجود ہیں۔اگرا س وقت میں ان خیالات کی تردید کروں گا تو میرا اندر ونہ کھل جاوے گااور حق ظاہر ہوجاوے گا۔یا آپ خود بھی اس وقت یہی اعتقاد رکھتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ نبی ہیں۔ان تینوں امور میں سے کون سا امر حق ہے؟ آیا یہ میری خوشامد تھی جس نے آپ سے یہ تعریف لکھوائی یا حضرت مسیح موعود ؑکاخوف یا اپنا عقیدہ مَیں تویہی کہوں گا کہ اس وقت آپ کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ظہیر الدین کی طرف اس امر کو منسوب کرنا تو اسی مثلا کے مطابق ہے کہ اگر چہ گندہ است مگر ایجاد بندہ است بیٹھے بیٹھے آپ کو ایک خیال سوجھا۔اور آپ نے اس پر ایک عمارت بنالی۔ورنہ جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعودؑکی زندگی سے ہی آپؐکو نبی مانتی چلی آئی۔خصوصاً مَیں اور آپ کہ دونوں کی تحریریں اس پر شاہد ہیں۔فرق صر ف یہ ہے کہ میں آج بھی اسی عقیدہ پر قائم ہوں لیکن آپ ایڑیوں کے بل پھر گئے ہیں۔مسیح موعودؑ کی نبوت کا مَیں پہلے سے ہی قائل تھا یہ بات اتفاق نہیں کہی جاسکتی کہ حضرت مسیح موعودؑکے سب سے بڑے مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی انہی الہامات پر جن کو بعد میں انہوں نے عقائد کفریہ پر مشتمل بتایا ہے تعریفی طور پر ریویو لکھا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین کو ایک معجزہ قرار دیا ہے۔اور اس کے متعلق لکھا ہے کہ ’’ :-’’ ہمارے رائے میں یہ …ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی…اوراسکا مؤلّف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی وحالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بتادے‘‘٭اور حضرت مسیح موعودؑکے موعود جانشین کے سب سے بڑے مخالف نے بھی اس کے ایک مضمون پر جو انہی *إشاعة السنة نمبر ۶ جلد ۷ ص ۱۶۹،۱۷۰