انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 108

فتنہ نہیں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۲۶ ،روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۲۱۲) حضرت مسیح موعودؑ کے اس فیصلہ کے بعد کہ یہود بننے سے مراد مسیح موعود ؑکا مقابلہ کرنا اور نصاریٰ بننے سے مراد فی الواقع اس وقت کے مسلمانوں کا نصاریٰ ہوجانا ہے نہ کہ مسیح موعودؑ کی جماعت کا مشابہ بہ نصاریٰ ہوجانا۔مولوی صاحب کا ان آیات و احادیث کے ایک نئے معنے کرنا ان لوگوں کے لئے تو کچھ بھی موجب حیرت نہیں جو چار سال سے مولوی صاحب کی رجعت قہقری کو دیکھ رہے ہیں۔مگر ان لوگوں کے لئے تعجب خیز ضرور ہوگا۔جن کے سامنے مولوی صاحب پہلی دفعہ اس لباس میں پیش ہوئے ہیں۔مسیح موعودؑ کی تشریح عقلی پہلو سے بھی درست ہے اب ہم واقعات کی روشنی میں جب اس حدیث کو دیکھتے ہیں تو عقلی طور پر بھی مسیح موعود کے کئے ہوئے معنے ہی ہمیں درست معلوم ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی نسبت خبر دی تھی کہ وہ یہود نصاریٰ کا رنگ اختیار کرلیں گے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے اس کے کہ مسیح موعود ؑکا انہوں نے انکار کیا ہو یہود سے ان کو مذہباً اور کوئی مشابہت نہیں۔یعنی یہود کے مذہب کا کوئی ایسا جزو جس سے وہ مذہباً ممتاز ہوتے ہوں انہوں نے اختیار نہیں کیا۔اور نہ ان میں سے کوئی بڑی تعداد یہودی ہوئی۔بلکہ یہود تو عام طور پر دوسروں کو اپنے اندر شامل بھی نہیں کرتے۔پس یہودیوں کی اتّباع سے یقیناً مسیح موعودؑمسیح موعودؑ کا انکار اور اس کو ایذاء دینا ہی مراد تھا لیکن مسیحیوں کی اتّباع سے مراد حقیقتاً مسیحیوں کی ہی اتباع لی جاوے گی۔کیونکہ کیا یہ درست نہیں کہ اس وقت تمام مسلمان کہلانے والے لوگ سوائےاحمدیہ جماعت کے حضرت مسیحؑکے درجہ میں غلو کرت ے ہیں؟ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کو فضیلت دیتے ہیں۔کیا مسیحی خیالات کو انہوں نے اس حد تک اپنے اندرداخل نہیں کرلیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو وفات یافتہ اور زیرِ زمین مدفون مانتے ہیں۔اور حضرت مسیح ناصری کو آسمان پر زندہ تسلیم کرتے ہیں؟ اور اس طرح اسے حی وقیوم کے مشابہ بنا کر اس کی خُدائی کا اقرار کرتے ہیں۔پھر کیا وہ خدا تعالیٰ کی طرح اسے مُردوں کا زندہ کرنے والا نہیں مانتے؟ اور اس طرح مسیحیوں کے ہمنوا نہیں ہوتے؟ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک چڑیا کے زندہ کرنے کے بھی ان کے علماء قائل نہیں۔اسی طرح کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک چڑیا کے زندہ کرنے کے بھی ان کے علماء قائل نہیں۔اسی طرح کیا مسیحیوں سے بھی بڑھ کر وہ مسیح ؑ کے خالق ہونے کے قائل نہیں؟ کیا وہ نہیں مانتے کہ وہ علم غیب رکھتا تھا؟بلکہ قیامت کا علم جو خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں کیا وہ اسے اس کا بھی عالم نہیں جانتے؟