انوارالعلوم (جلد 6) — Page 90
مضامین انہوں نے لکھے ہیں ان میں بھی ان کی طرز تحریرنہایت مکروہ رہی ہے اور اس کے مقابلہ میں مَیں نے اس ادب و احترام کو جو شرفاء میں رائج ہے کبھی نہیں چھوڑا بلکہ ان کو بھی اس کمزوری کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔مگر مولوی صاحب نے میری نصیحت پر کبھی کان نہیں دھرا اور ہمیشہ اس رویہ کو اختیار کئے چلے گئے ہیں لوگ اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ معیّن اشخاص کو مخاطب کرکے یا ان کا ذکر کرکے اگر کسی شخص نے مسائل اختلافیہ پر رسائل شائع کرنے میں ابتداء کی ہے تو وہ مولوی محمد علی صاحب ہی ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات سے چند دن پہلے آپ کی نازک حالت کو دیکھ کر مولوی محمد علی صاحب نے ایک ٹریکٹ لکھا تھا جس میں مسائل اختلافیہ پر رائے زنی کی گئی تھی اور ڈر سے کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو اگر معلوم ہوگیا تو ان کی سب کوشش اکارت جاوے گی انہوں نے کمال دانائی و ہوشیار سے ٹریکٹ لکھوایا اور چھپوایا۔نہ حضرت خلیفۃ المسیح کو پڑھ کر یہ ٹریکٹ سنایا نہ اس کے مضمون پر آگاہی دی نہ آپ سے مشورہ لیا۔حالانکہ احمدیوں میں یہ بات عام طور پر رائج ہے کہ اختلافی امور یا اہم مسائل پر جب کبھی کوئی رسالہ یا اشتہار لکھا جاتا ہے تو اس کے متعلق خلیفۂ وقت سے اجازت لی جاتی ہے۔چنانچہ خواجہ صاحب نے کفر و اسلام کے متعلق جو مضامین لکھے تھے وہ حضرت خلیفۃ المسیح کو دکھائے تھے۔کانپور کی مسجد کے متعلق کچھ لکھنے سے پہلے پیغام صلح کےسٹاف نے خاص آدمی بھیج کر حضرت خلیفۃ المسیح کی رائے طلب کی تھی۔یہ الگ بات ہے کہ پورے طور پر مضامین سنائیں یا نہ۔یا آپ کی رائے کو اس کے اصلی رنگ میں شائع کریں نہ کریں۔گو ایک قسم کا پردہ ضرور رکھا جاتا تھا۔مگر اس مضمون کے متعلق دو حرفی ذکر بھی مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سے نہیں کیا۔حالانکہ آپ کی وصیت کے عجیب وغیرب معنے اس میں آپ نے کئے تھے کم سے کم ان معنوں کے متعلق ہی دریافت کرنا چاہئے تھا کہ آپ کی وصیت کے یہ معنے کئے ہیں کیا یہ درست ہیں؟ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا اور اخفاء سے کام لیا۔اسی طرح قادیان میں ٹریکٹ نہیں چھپوایا ان کو زیادہ نہ تھا۔لاہور میں بھی ٹریکٹ چھاپ کر رکھ چھوڑا گیا اور اس دن کا انتظار ہوتا رہاجب حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہوجاویں تا کہ جو کچھ بھی آپ کی نسبت شائع کیا جاوے اس کی تردید نہ ہوسکے۔غرض مولوی محمد علی صاحب ہی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اس قسم کی تحریرلکھی ہے جس میں انہوں نے میرااور میرے دوستوں کا ذکر کرکے ان کے عقائد کی نسبت یہ لکھا ہے کہ وہ تقویٰ کے خلاف ہیں۔