انوارالعلوم (جلد 6) — Page 441
انسانی آنکھ کی مناسبت سے ایک ٹکیا کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔اس تمام قاعدہ کو مدّ نظر رکھتے ہوئے جب ہم خدا تعالیٰ کی طرف جانے والے راستہ کو دیکھیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کی صفات جب تنزّل اختیار کرتی ہیں تو جو ان کی پہلی منزل ہوگی کیونکہ بندہ نیچے سے اوپر جارہا ہے اور وہ اوپر سے نیچے کو آرہی ہیں۔اسی طرح یہ کہ خدا تعالیٰ کی صفات جب تنزّل اختیار کرتی ہیں تو ان کی پہلی منزل زیادہ وسیع ہوگی اور آخری سب سے تنگ۔لیکن بندہ کی ترقی اس کے اُلٹ ہوگی اس کی پہلی منزل زیادہ محدود ہوگی اور آخری بہت زیادہ وسیع کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کررہا ہے۔خدا کی بندہ کی طرح آنے کی منزلیں اس قاعدہ کو مد نظر رکھتے ہوئےسورۃ فاتحہ سے سیر فی اللہ کا راستہ نہایت ،آسانی سے معلوم ہو جاتا ہے۔اس سورۃ میں چارصفات الٰہیہ بیان ہوئی ہیں۔رب العٰلمین ،رحمٰن ،رحیم اور مٰلک یوم الدین۔پچھلے قاعدہ کے مطابق یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رب العٰلمین ان چاروں صفات میں سے تشبیہ اور تنزّل کا حصہ کم رکھتی ہے اور زیادہ وسیع ہے اس سے کم رحمانیت اس سے کم رحیمیت اس سے کم مالکیت یوم الدین ،گویا جب اللہ تعالیٰ نے جو وراء الوریٰ ہے تنزّل اختیارکیا تو اس کی صفت رب العٰلمین ظاہر ہوئی جب اور تنزّل کیا تو رحمانیت جب اور تنزّل کیا تو رحیمیت اور جب اور تنزّل کیا تو مالکیت یوم الدین کی صفت ظاہر ہوئی،لیکن اس کے مقابلہ میں بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف قدم بڑھائے گا تو وہ سب سے پہلے جس منزل پر پہنچے گا وہ مالکیت یوم الدین ہوگی اس کے بعد وہ رحیمیت اور اس کے بعد رحمانیت اور اس کے بعد ربوبیت عالمین کی منازل تک پہنچے گا گویا خدا تعالیٰ کی صفات کے تنزّل کی منازل کی پہلی منزل بندہ کے لئے آخری ہوگی اوران کی آخری منزل بندہ کے لئے پہلی منزل ہوگی۔دوسری بات مذکورہ بالا قاعدہ کی رو سے یہ معلوم ہوئی کہ ملک یوم الدین کی صفت مخفی ہے اس سے ظاہر رحیمیت کی اس سے ظاہر رحمانیت کی اور اس سے ظاہر ربوبیت کی۔صفت رب العٰلمین کا جلوہ غور کرکے دیکھو لو رب العٰلمین کی صفت نہایت وسیع ہے وہ ساری دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔سورج ، چاند ،جانور وغیرہ سب پر محیط ہے اور اسی وجہ سے زیادہ مخفی ہے رب پیدا کرنےوالے کو کہتے ہیں اور