انوارالعلوم (جلد 6) — Page 404
ہے کہ اس سے زیادہ کیا آسان ہوسکتا ہے کہ اکثر نیکیاں خدا تعالیٰ نے وہی رکھی ہیں جن میں انسان کا اپنا فائدہ ہے۔ان کو نہ کرنا تو ایسا ہی ہے جیسا کسی کو کہا جائے کہ تم اپنے گھر کو لیپ پوت چھوڑنا مگر وہ ایسا نہ کرے اور کہے کہ اتنا سخت کام ہے اور مزدوری دیتے نہیں تو مَیں کیوں کروں۔دیکھو خدا تعالیٰ کہتا ہے چوری نہ کرو اب اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اس کا کسے نقصان ہے خدا تعالیٰ کا کیسا نقصان خود اس کا اعتبار نہیں رہتا۔اسی طرح جس قدر سوالات خدا نے اس امتحان میں پاس ہونے کے لئے دئیے ہیں وہ انسان کے ہی فائدہ کے لئے ہیں اور چند ایک ایسے بھی ہیں جو بظاہر انسان کے دنیوی یا اخلاقی فائدہ کے نظر نہیں آتے جیسے نماز، روزہ ،حج اور زکوٰۃ کے احکام ہیں مگر درحقیقت ان میں بھی انسان کا ہی فائدہ مد نظر ہے۔جیسا کہ نماز کے متعلق آتا ہے اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ(العنکبوت:۴۶)کہ نماز برائیوں اوربدیوں سے روکتی ہے۔سو اگر سوچا جائے تو خدا تعالیٰ نے امتحان اس طرح کا لیا ہے کہ اپنے دروازہ پر روغن مل دینا، چھت پر مٹی ڈال دینا، اپنے کپڑے دھونا ،کھانا دیکھ کر کھانا تا کہ اس میں مٹی وغیرہ نہ ہو، سردی کے وقت آگ جلانا تا کہ تمہاری صحت خراب نہ ہو اور پھر پوچھے کہ کیا تم نے یہ کام کر لئے ہیں؟ اور جنہوں نے کئے ہوں انہیں جنت میں داخل کردے اس سے زیادہ آسان اور کیا امتحان ہوسکتا ہے؟اس سے آسان تو پھر یہی ہوسکتا ہے کہ کہہ دیاجائے جو مرضی ہو کرو تمہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا۔کیا خدا کی بعض صفات بعض سے افضل ہیں صفات الٰہیہ کے متعلق یہ بھی ایک سوال ہوسکتا ہے کہ کیا خدا کی بعض صفات بعض سے افضل ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ افضل نہیں ہوتیں بلکہ ہر ایک کے الگ الگ دائرے ہوتے ہیں اور وہ ایک انتظام کے ماتحت ہوتی ہیں۔ہاں کبھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعض بعض سے وسیع ہوتی ہیں۔یعنی بعض کا ظہور زیادہ وسیع ہوتا ہے بعض کی نسبت جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ کہ میری رحمت ہرایک چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔یعنی مخلوق پر صفات غضبیہ کی نسبت صفات رحمت کا ظہور زیادہ ہوتا ہے۔پس ہم صفات کے لئے لفظ وسعت کا استعمال کرتے ہیں فضیلت کا نہیں کیونکہ ایک صفت کو دوسری سے افضل کہنا بے ادبی ہے۔