انوارالعلوم (جلد 6) — Page 347
باپ قرار دیا گیا ہے۔کیا باپ اپنے بچوں سے ویسا ہی سلوک کرتے ہیں جو مسیحی کہتے ہیں کہ خدا بنی نوع انسان سے کرتا ہے کہ خواہ وہ کس قدر بھی توبہ کیوں نہ کریں وہ ان کے قصور معاف نہیںکرتا۔مسیحی یہ نہیں کہہ سکتے کہ دنیوی باپ بوجہ کم علمی اور جہالت کے ایسا کرتے ہیں ورنہ اگر وہ عدل کو مدِّ نظر رکھیں تو اپنے بچوں کا قصور بغیر کفارہ کے معاف نہ کریں۔کیونکہ خود مسیح علیہ السلام نےانجیل میں خدا کو باپ سے تمثیل دے کر انسان سے سلوک کی مندرجہ ذیل حکایت کےذریعہ سے کیفیت بیان کی ہے۔’’کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔ان میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا کہ اے باپ مال کا جو حصہ مجھ کو پہنچتا ہے مجھے دے۔اس نے اپنا مال متاع انہیں بانٹ دیا اور بہت دن نہ گذرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کُچھ جمع کرکے دور دراز ملک کو روانہ ہوا۔اور وہاں اپنا مال بد چلنی میں اُڑا دیا اورجب سب خرچ کرچکا تو اس ملک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔پھر اس ملک کے ایک باشندے کےہاں جا پڑا۔اس نے اس کو اپنے کھیتوں میں سؤر چرانے بھیجا اور اسے آرزو تھی کی جو پھلیاں سؤر کھاتے تھے۔انہیں سے اپنا پیٹ بھرے۔مگر کوئی اسے نہ دیتا تھا پھر اس نے ہوش میں آکر کہا کہ میرے باپ کے کتنے ہی مزدوروں کو روٹی افراط سے لتی ہے اور مَیں یہاں بھوکا مر رہا ہوں۔میں اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس جائوں گا اور اس سے کہوں گا کہ اے باپ میں آسمان کا اور تیری نطر میں گنہگار ہوا۔اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلائوں مجھے اپنے مزدوروں جیسا کرلے۔پس وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پا س چلا۔وہ ابھی دُور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے باپ کو ترس آیا اور دوڑ کر اس کو گلے لگا لیا اور بوسے لئے۔بیٹے نے اس سے کہا کہ اے باپ میں آسمان کا اور تیری نظر میںگنہگار ہوا۔اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلائوں۔باپ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ اچھے سے اچھا جامہ جلد نکال کر اسے پہنائو اوراس کے ہاتھ میں انگوٹھی اورپائوں میں جوتی پہنائو اور پلے ہو ئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو۔تا کہ ہم کھا کر خوشی منائیں۔کیونکہ میرا یہ بیٹا مُردہ تھا اب زندہ ہوا۔کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔پس وہ خوشی منانے لگے۔لیکن اس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا جب وہ آکر گھر کے نزدیک پہنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سنی