انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 334

اسی طرح کیا کوئی شاگرد یہ بھی کہا کرتا ہے کہ مِیں استاد کا امتحان پہلے لے لوں پھر سمجھوں گا کہ وہ میرا استاد بننے کے قابل ہے یا نہیں۔جب وہ اس ے پڑھے گا اسے خود ہی اس کی قابلیت یا جہالت کا علم ہوجائے گا یا بادشاہ کی مثال لو اگر کسی بادشاہ کے متعلق کوئی سوال مثلاًیہی ہو کہ وہ گھوڑے کی سواری جانتا ہے یا نہیں تو کیا منکر اس سوال کو اس طرھ حل کرے گا کہ کہے گا کہ فلاں گھوڑے پر چڑھ کر فلاں گلی میں سے گذرے تب میں مانوں گا کہ وہ سوا ہے یا یہ کرے گا کہ اگر بادشاہ سے پوچھ سکتا ہے تو اس سے پوچھ لے گا کہ کیا اپ سواری اچھی جانتے ہیں؟ پوچھ بھی نہیں سکتا تو جو اس کے مقرب ہیں ان سے دریافت کرے گا اور اگر یہ بھی طاقت نہیں تو ایسے موقع کا منتظر رہے گا جب وہ سوار ہو کر نکلے اور یہ اس کی سواری کا اندازہ کرسکے اگر ایسا شخص بادشاہ کے پاس جاکر اس قسم کا سوال کریگا کہ چل کر امتحان دو تو یقیناً یہ سزا پائے گا۔پس خدا تعالیٰ چونکہ ہمارے ماتحت نہیں بلکہ ہم اس کے ماتحت ہیں اور وہ سب پر غالب اور سب کا حاکم ہے اس لئے اس کا پتہ لگانے کے لئے یہ کہنا درست نہیں کہ جس طرح ہم کہیں اس طرح کردے تو ہم مانیں گے۔بلکہ خدا کے انبیاءؑسےاس کی ہستی کے متعلق دریافت کرنا چاہئے جو خدا تعالیٰ کو اس کی شان کے مطابق تمام آداب کو مدّنظر رکھ کر اس کا پتہ لگاتے ہیں یا خود خدا تعالیٰ کی شان کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اس کا پتہ لگانا چاہئے اور خدا تعالیٰ جو ثبوت پیش کرے اگر وہ ثبوت کی حد تک پہنچ جائے تو اسے قبول کرنا چاہئےنہ کہ یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح ہم خود چاہیں اس طرح خدا کردے۔اگر کہا جائے کہ بادشاہ کی مثال درست نہیں کیونکہ بادشاہ آدمی ہو ہوتا ہے اور وہ انسان کی ہر ایک خواہش کو پرا نہیں کرسکتا۔لیکن خدا تعالیٰ تو پورا کرسکتا ہے پھر اس کے متعلق کیوں نہ یہ کہیں کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں اسی طرح وہ اپنی ہستی کا ثبوت دے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غلط ہے کہ بادشاہ اس لئے لوگوں کے مطالبات کے مطابق اپنا امتحان نہیں دیتا کہ اس کا وقت خرچ ہوتا ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنے عہدہ کےخلاف سمجھتا ہے۔پس خدا تعالیٰ جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے کس طرح ان مطالبات کو قبول کرسکتا ہے۔دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ اگرانسان کی خواہش کو پورا کرکے ہی خدا کی ہستی کا ثبوت دیا جاسکتا ہے تو پھر درحقیقت خدا تعالیٰ کا وجود ثابت ہی نہیں کیاجاسکتا فرض کرو دو شخص سندر سنگھ اور آتما سنگھ ہوں اور ان میں مقدمہ ہو۔ان میں سے ہر ایک کہے کہ میرے نزدیک خدا کی ہستی کا ثبوت یہ