انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 322

سے کتنوں کے متعلق کہوگے کہ ان کے دماغ خراب ہوگئے اس لئے یہ شبہ بالکل غلط ہے۔صفتِ مجیب خدا کی ہستی کا ثبوت تیسری مثال کےطور پر میں خدا تعالیٰ کی صفت مجیب کو بیان کرتا ہوں جس قدر لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے کے مدعی گزرے ہیں سب کہتے چلے آئے ہیں کہ خدا مجیب ہے دُعائوں کو قبول کرتا ہے۔اب اگر تجربہ سے ثابت ہوجائے کہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ کوئی دُعائوں کو قبول کرنےوالی ہستی موجود ہے تو خدا تعالیٰ کے وجود میں کوئی شبہ نہیں رہتا بلکہ اس امر میں بھی کہ وہ سمیع اور مجیب ہے۔سمیع تو اس طرح کہ بندہ کہتا ہے اور وہ سنتا ہےاور مجیب اس طرح کہ بندہ کی عرض قبول کرتا ہے اس صفت کے ثبوت کے طور پر مَیں دُعائوں کی قبولیت کو پیش کرتا ہوں کس کس رنگ میں انسان دُعا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کس کس طرح اس کے لئے ناممکن کو ممکن کرکے دکھا دیتا ہےیہ ایک ایسا حیرت انگیز مشاہدہ ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کا انکار ایک قسم کا جنون ہی معلوم دیتا ہے ہم نےحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دُعاؤں کی قبولیت کے ایسے نشان دیکھے ہیں کہ ان کےدیکھنےکے بعد خدا تعالیٰ کے وجود میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا پھر خود اپنی ذات میں بھی اس نشان کا مشاہدہ کیا ہے اور بار ہا حیرت انگیز ذرائع سے دُعاؤں کو قبول ہوتے دیکھا ہے۔نواب محمد علی خان صاحب کےصاحبزادے میاں عبدالرحیم خان صاحب کےواقعہ کو ہی دیکھ لو وہ ایک دفعہ ایسے بیمار ہوئے کہ ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ اب یہ بچ نہیں سکتے۔حضرت صاحب ؑنے دُعا کی کہ خدایااگر اس کی موت آچکی ہے تو مَیں اس کی شفاعت کرتا ہوں تب خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ کون ہے جو خدا تعالیٰ کے اذن کے بغیر اس کی شفاعت کرسکے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ یہ بات سُن کر مجھ پر اسقدر رُعب طاری ہوا کہ گویا جسم میں سے جان نکل گئی اورمَیں ایک مُردے کی طرح جاپڑا اورپھر الہام ہوا کہ اچھا تم کو اجازت دی جاتی ہے ٭ چنانچہ آپ نےپھر دُعا کی اور وہ قبول ہوگئی۔آپ نے اسی وقت باہر نکل کر یہ بات لوگوں کو سُنا دی اور میاں عبدالرحیم خان جن کی نسبت ڈاکٹر اورحکیم کہہ چکے تھے کہ اب ان کی آخری گھڑیاں ہیں۔اسی وقت سے اچھے ہونے لگ گئے اور اب تک خدا تعالیٰ کےفضل سے زندہ ہیں اوراس وقت ولایت تعلیم کے لئے گئے ہوئے ہیں۔(نظر ثانی کے وقت وہ خدا کےفضل سے بیرسٹری کے امتحان میں کامیاب ہوچکے ہیں) غرض دُعائیں ایسے رنگ میں قبول ہوتی ہیں کہ جو امورناممکنات میں سے سمجھے جاتے ہیں؟ماننا پڑتا ہے کہ کسی بالا ہستی کی قضاء کے ماتحت ان کی قبولیت وقوع میں آتی ہے۔*تذکرة ص۴۹۵،۴۹۶ ایڈیشن چہارم