انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 321

نے کسی منتر سےروپیہ بنایا ہو اسی طرح کیوں نہ سمجھا جائے کہ اس مشاہدہ میں بھی کوئی دھوکا ہی ہوتا ہو انسان خیال کرتا ہو کہ اسے مشاہدہ یا مکالمہ حاصل ہوا ہےاور فی الواقع کچھ بھی نہ ہو۔ہم کہتے ہیں مشاہدے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن میں غلطی لگ سکتی ہے دوسرا وہ جن میں غلطی لگنے کا امکان نہیں ہوتا۔ایک اور مشاہدہ تو یہ ہے کہ مثلاً کوئی شخص دور سے ایک شکل دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ فلاں شخص ہے لیکن ایک اور شخص اسے ملتا ہے جو بتاتا ہے کہ وہ اس شخص کو کسی اور جگہ پر دیکھ کر آیا ہے اس وقت اس شخص کی بات قبول کی جاتی ہے جو قریب سے دیکھ کر آی ہے اور اس کی رد کردی جاتی ہے جس نےدور سےدیکھا تھا۔اس لئے نہیں کہ مشاہدہ مشتبہ شئے ہے بلکہ اس لئے کہ خود مشاہدوں کے مختلف درجے ہیں اور پہلے شخص کے مشاہدہ کے مقابلہ میں دوسرے شخص کا قریب کا مشاہدہ جب پیش کیاگیا تو معلوم ہوا کہ پہلے مشاہدہ میں غلطی لگ گئی تھی لیکن ایک مشاہدہ اس قسم کا ہے کہ مثلاً ایک شخص مجھ سے باتیں کرے اور اس وقت لوگ بھی موجود ہوں اور وہ بھی اس امر پر شاہد ہوں کہ ہاں فی الواقع اس نے مجھ سے باتیں کی ہیں اس کے بعد کوئی شخص مجھے آکر کہے کہ میں نے تو اسےلاہور میں دیکھا ہے۔تو اس صورت میں کجے اپنے مشاہدہ کے متعلق کوئی شبہ نہ ہوگا بلکہ میں اس شخص کی نسبت یہی یقین کروں گا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے یا غلطی خوردہ ہے۔اسی طرح شعبدہ باز اگر اپنی ہتھیلی پر روپیہ بنانے کی بجائے میرے ہتھیلی پر روپیہ بناتا ہے جس کی نسبت یقین کیاجاسکتا ہے کہ اس نے کسی نہ کسی جگہ روپیہ چھپا کر رکھا ہوا ہوگا پس شعبدہ باز کی شعبدہ بازی مشاہدہ نہیں کہلا سکتی مگر خدا کے کلام میں ایسا شبہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ تو پُرشوکت آواز میں یا من وراء حجاب تعبیر طلب خوابوں کےذریعہ سے ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں بندوں سے کلام کرتا ہے۔کیا خدا کا مشاہدہ کرنیوالوں کے حواس غلطی تو نہیں کرتے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جو لوگ خدا کے مشاہدہ کا اعلان کرتے ہیں ممکن ہے ان کے حواس کی غلطی ہو اور وہ پاگل ہوں یا دھوکا خوردہ مگر ہم کہتے ہیں یہ کیسا پاگل پن ہے کہ اس قسم کے کلام پانیوالے سب کے سب اس امر پر متفق ہیں کہ ایک زبردست ہستی ہے جو ہم سے کلام کرتی ہے کبھی پاگلوں میں بھی اس قسم کا اتفاق ہوا کرتا ہے؟ پاگل تو دو ایک بات نہیں کہتے کجا یہ کہ سینکڑوں و ہزاروں لوگ ایسی بات کہیں ان میں