انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 298

ہوں کہ پہلی اور دوسری توجیہہ پر جو اعتراج کئے گئے ہیں ایک حد تک درست ہیں لیکن تیسری توجیہہ کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے وہ محض ایک دھوکا ہے کیونکہ جب کہا جاتا ہے کہ یہ دُنیا کسی کیپیدا کردہ ہے تو اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ ایک مکان کی طرح بنائی گئی۔بلکہ اس سے مراد یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک مادہ پیدا کیا۔اور اس میں ایک قانون کو جاری کیا تا کہ اس کےمطابق وہ ترقی کرے۔پس ارتقاء ہر گز دُنیا کی پیدائش کے خیال کے مخالف نہیں۔بلکہ صانع کی نادر صنعت گری پر دلالت کرتا ہے اور ہر ٹکڑہ اس ارتقاء کا اپنے خالق پر دلالت کرتا ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ کسی اور کو خالق ماننے کی صورت میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ اس نے مادہ کہاں سے لیا؟ اس کا جواب میں آگےچل کردوں گا۔فی الحال اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر خدا کو نہ مانا جائے تو بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ مادہ کہاں سے آیا۔پس جب یہ سوال دنیا کو خود بخود مان کر بھی باقی رہتا ہے تو پھر یہ خدا کے وجود کے لئے بطور شبہ کے پیدا نہیں کیا جاسکتا۔رہا یہ سوال کہ فضاء کو کس نے پیدا کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وہمی وجود ہے جو ہمارے دماغ سے تعلق رکھتا ہے۔خدا سےکوئی تعلق نہیں رکھتا۔فضاء اور جہالت نسبتی امور ہیں اوران کا تعلق یا مادہ سے ہے یا دماغ سے۔پس ان کی بحث خدا تعالیٰ کے سوال میں آہی نہیں سکتی۔اور آپ ہے تو یہ سوال دنیا پر بھی پڑے گا کہ وہ محدود ہے کہ غیر محدود اور دنوں ممکن صورتوں میں سے کسی ایک کو ماننا مشکل ہوگا اور اس پر بہت سے اعتراض پڑیں گے۔پس اگر دنیا کے آپ ہی آپ ہونے کی صورت میں بھی بلکہ قطع نظر اس کی ابتداء کے سوال کے اس کی موجودہ صورت میں بھی اس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ وہ محدود ہے کہ غیر محدود۔جو دونوں صورتیں ناممکن ہیں تو پھر یہی سوال اگر خدا تعالیٰ کو مان کر پڑے تو اس میں کیا حرج ہے۔ہم کہیں گے کہ دُنیا کی پیدائش کی کوئی صورت بھی فرض کریں۔یہ اعتراض قائم رہتا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ یہ اعتراض نہیں ہے بلکہ ایسا سوال ہے کہ جسے انسانی دماغ سمجھ ہی نہیںسکتا۔یا یہ کہ وہ نقطہ نگاہ ابھی دریافت نہیں ہوا جس کی مدد سے اس سوال کو حل کیا جاسکے۔اوران دونوں صورتوں میں اس دُنیا کا خالق کسی وجود کو ماننا خلاف عقل نہیں کہلا سکتا۔اب مَیں چوتھے سوال کو لیتا ہوں کہ اگر اس دنیا کو خدا نے پیدا کیا ہے تو پھر خدا کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال کہ خدا کو پیدا کرنے والا بھی کوئی ہونا چاہئے مادی تجربات کی