انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 291

ارتقاءکا بانی اوراس کا ملانے والا کوئی ایسا وجود ہے جس نے اس تمام دنیا کو ایک خاص غرض اور مقصد کے لئے پیدا کیا ہے جب وہ مقصد پورا ہوگیا تو ارتقاء کی لہریں جو جاری تھیں اس نے بندکردیں۔اگر خدا تعالیٰ نہیں تو چاہئے تھا کہ انسان کی پیدائش کے بعد بھی برابر مخلوقات میں تبدیلی ہوتی رہتی اور نئے سے نئے حیوانات پیدا ہوتے رہتے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جب وہ حیوان پیدا ہوگیا جس کےذہن اس قابل تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر جذب کرسکے اور روحانی ترقیات حاصل کرسکے تو ارتقاء کہ لہر بالکل پلٹ گئی اوربجائے جسمانی ترقی کے خالص ذہنی ترقی شروع ہوگئی گویا مقصود پورا ہوگیا اوراب جسمانی ارتقاء کی ضرورت نہ رہی جس کے ذریعہ سے ایک جنس سے دوسری جنس پیدا کی جائے۔چنانچہ اس تغیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاً انسان کے بچپن کا عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا کردیا گیا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ انسان کی پیدائش کی غرض چونکہ علوم کا حصول ہے جو لمبی تربیت کو چاہتا ہے اس لئے اس کےلئے بچپن کا زمانہ بھی لمبا بنایا گیا ہے تا وہ دیر تک ماں باپ کا محتاج رہے اور ان کے ساتھ رہنے پر مجبور ہو اور ان کے علم اور تجربہ کو ان کی صحبت میںسیکھے اوران کی تربیت سے فائدہ حاصل کرے۔اگر انسان بندر سے ترقی کرکے ایک اندھی نیچرکے قوانین کےذریعہ سے بنا تھا تو کیا وجہ کہ بندر اور اس سے اوپر کے ترقی یافتہ جانوروں کے بچپن کا زمانہ جبکہ بہت ہی چھوٹا تھا اور پیدا ہوتے ہی چلنے کے قابل ہوجاتے تھے اورچھ سات ماہ میں اپنے بچاؤاور حفاظت کا سامان مہیّا کرنے کے قابل ہوجاتے تھے تو انسان کے لئے یہ نئی بات پیدا ہوئی کہ وہ چھ سات ماہ تک ایک قدم اُٹھانے کے قابل نہیں ہوتا۔پھر آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے اورچودہ پندرہ سال تک ماں باپ کی مدد اور اعانت کا محتاج رہتا ہے۔یہ بچپن کے زمانہ کی لمبائی ان مجبوریوں کی وجہ سے نہیں ہے جو ارتقاء کے مسئلہ کےلازمی نتیجہ میں ہو کہ ہم اسے اس کی طرف منسوب کردیں بلکہ یہ اس علمی ترقی کی وجہ سے ہےجس کے لئے انسان میں مخفی قوتیں رکھی گئیں ہیں۔پس یہ امر ایک بِلارادہ قادر ہستی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے نہ کہ ارتقاء کی عام رَو کی طرف۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان کے دانت اس قسم کے اس لئے ہوگئے کہ اس کی غذا ء مختلف قسم کی تھی۔یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ انسان کی دُم اس لئے نہیں رہی کہ وہ بیٹھنے کا عادی ہے(گو یہ ایک بیہودہ دلیل ہے) یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کی انگلیوں کی شکل اس لئے بدل گئی کہ وہ اس قسم کا کام نہیں کرتا تھا جو دوسرے جانوروں کو کرنا پڑتا ہے۔مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا بچپن کا زمانہ لمبا کیوں ہوگیا کیونکہ یہ تغیر مادی اسباب کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ایک آئندہ پیش آنیوالے