انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 273

جب خدا کے نہ ماننے والوں کے سامنے مندرجہ بالا امر پیش کیا جاتا ہے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ باقی باتیں تو اختیاری ہیں کسی کی مرضی ہو تو زمین کے گھومنے کی تحقیقات کرے اور نہ ہو تو نہ کرے اسے کوئی مجبو ر نہیں کرتا مگر خدا کو تو جبراً منوایا جاتا ہے اور ہر ایک کو مجبور کیا جاتا ہے کہ خُدا کے بارے میں تحقیقات کرے۔مگر یہ غلط ہے۔جس طرح ان علوم کی اشاعت ہوتی ہے اسی طرح اس علم کی بھی اشاعت کی جاتی ہے۔جس طرح دوسرے علوم خاص خاص لوگوں نے جنہوں نے اپنی عمریں ان کی دریافت میں صرف کی ہیں دریافت کئے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کی ہستی کا انکشاف بھی خاص خاص لوگوں پر جو اس امر کے اہل ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا جلواہ کامل طور پر ان پر ظاہر ہوا ہے۔اورجب ان پر حقیقت ظاہر ہوگئی ہے توا نہوں نے باقی دُنیا کو اس صداقت کے تسلیم کرنے کی دعوت دی ہے اسی طرح جس طرح ان لوگوں نے جنہوں نے قانونِ قدرت کی باریکیوں کو دریافت کیا اور پھر دوسرے لوگوں کو ان کے ماننے کی دعوت دی۔اس میں کیا شک ہے کہ سب دُنیا اس تحقیق میں مشغول نہیں ہوئی تھی کہ زمین گول ہے یا نہیں مگر جب یہ صداقت ظاہر ہوگئی تو پھر سب سے ہی اس صداقت کو منوایا جاتا ہے۔اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کے وجود کا اس کی محبت میں فنا ہوکر بعض لوگوں نے پتہ لگایا تو اب سب پر فرض ہے کہ وہ اسے مانیں خواہ اس کے ماننے میں ان کو کوئی فائدہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔اگر زمیں کی گولائی اور جوار بھاٹے کے اصول کے دریافت ہونے کے بعد دنیا کو اجازت نہیں دی جاتی کہ جو چاہے مانے۔تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کسی کو کچھ نہ کہو خواہ کوئی توجہ کرے یا نہ کرے۔جن کو خدا تعالی کی ہستی کا علم ہوا ہے ان کاحق ہے اور ان پر فرض ہے کہ وہ دوسروں تک اس علم کو پہنچائیں اور کسی کا حق نہیں کہ ان کی اس کوشش پر اعتراض کرے یا اس مسئلہ پر غور کرنے کو عبث قرار دے۔تیسرا جواب یہ ہے کہ خالق کے معلوم کرنے سے حقائق الاشیاء معلوم ہوتے ہیں اور اس طرح خدا کے معلوم ہونے سے دُنیا کے علوم میں بہت کچھ ترقی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے وجود کے نہ سمجھنے کے نتیجہ میں ہی شرک پیدا ہوا ہے اور شرک سے حقائق اشیاء کے دریافت کرنے کی طرف بے توجہی ہوئی ہے۔اگر ہر ایک چیز کی علت خدا تعالیٰ کے حکم اور اس کے ارادہ کو قرار دیاجاتا تو کیوں ان چیزوں کو جو انسان کے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہیں خدا قرار دیکر انسانی تحقیق سے بالا سمجھ لیا جاتا۔