انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 257

نہیں مانیں گے۔اگر خواجہ صاحب کی طرف توجہ کی تو دوسرے لوگ نہیں مانیں گے ہاں ایک صورت ہے جس سے فساد بھی نہیں ہوتا اور خلافت بھی قائم ہوسکتی ہے۔مَیں نےد ریافت کیا کہ وہ کونسی؟ اس وقت خان صاحب نے کہا کہ اگر میاں صاحب اپنا حوصلہ وسیع کریں تو بات بن جاتی ہے اور وہ مولوی محمد علی صاحب ہیں۔اگر ان کی بیعت کرلی جائے تو لاہوری بھی مان جاویں گے اور دوسرے بھی مان جاویں گے۔یہ آپس میں گفتگو تھی۔مگر حضرت کی زندگی میں۔بہت دن پہلے۔(الٰہی بخش بقلم خو د ۲۹ ؍اپریل ۱۹۱۴ء) اس شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس قسم کا الزام یہ لوگ ہم پر لگاتے ہیں۔وہ خود ان پر لگتا ہے اور جو الزام ہم پر لگایا جاتا ہے۔اس کی نسبت میں ثابت کرچکا ہوں کہ وہ ایک دو آدمیوں کی غلطی سے ہوا اور خود ہماری طرف سے ہی پیشتر اس کے کہ کوئی نتیجہ نکلتا اس کا تدارک کردیا گیا۔کتنی جماعت بیعت میں داخل ہے اسی طرح اور کئی باتیں ہمارے بدنام کرنے کےلئے مشہور کی گئیں۔مگر خدا تعالیٰ نےسلسلہ کو مضبوط کیا۔اور باوجود اس کے کہ خود انہی کی تحریروں کے مطابق ننانوے فیصدی جماعت ابتداء میں ان کے ساتھ تھی مگر تھوڑے ہی عرصہ میں خدا تعالیٰ نے سب کو کھینچ کر میرے پاس لاڈالااوراب قریباً ننانوے فی صدی جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے ساتھ ہے۔لاہور میں جماعت سے مشورہ کی تجویز ان لوگوں نے شور مچایا کہ جو لوگ قادیان میں اس وقت جمع تھے ان کی رائے نہ تھی ان کا مشورہ جماعت کا مشورہ نہ تھا اس لئے اخباروں اور خطوط کےذریعہ سے تمام جماعت احمدیہ کو دعوت دی گئی کہ وہ ۲۲؍مارچ کو لاہور جمع ہوں تا کہ پورے طور پر مشورہ کیا جاوے۔اس تحریکِ عام پر پیغام صلح کے اپنے بیان کے مطابق لاہور کی جماعت کو ملا کر کل ایک سو دس آدمی جمع ہوئے جن میں سے قریباً بیالیس آدمی لاہور سے باہر کے تھے۔جن میں سے چار پانچ آدمیوں کے سوا باقی کسی جماعت کے نمائندہ نہیں کہلا سکتے۔بلکہ باقی لوگ اپنے اپنے طور پر ذاتی دلچسپی سے اس جلسہ میں شامل ہوئے تھے۔مولوی محمد علی صاحب کے لاہور کے ہم خیالوں نے ان بیالیس آدمیوں کے مشورہ سے جن میں صرف چار پانچ آدمی کسی جماعت کی نیابت کا حق رکھتے تھے۔جو کچھ فیصلہ کیا اسے کل