انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 238

سے احمدیت کے مٹنے کا اندیشہ ہے۔مگر مَیں اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ اتحاد سب سے زیادہ ضروری ہے۔شخصیتوں کے خیال سے اتحاد کو قربان نہیں کرنا چاہئے۔چنانچہ مَیں نے اپنے دوستوں کو خاص طور پر سمجھانا شروع کیا کہ خدانخواستہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات پر اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو ہمیں خواہ وہ لوگ تھوڑے ہی ہیں ان میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئیےکیونکہ مَیں نے ان سے کہا کہ اگر کوئی ہمارا ہم عقیدہ شخص خلیفہ ہوا تو وہ لوگ اس کی بیعت نہیں کریں گے اور جماعت میں اختلاف پڑ جائے گا۔اورجب میں ان میں سے کسی کی بیعت کرلوں گا تو اُمید ہے کہ میرے اکثر احباب اس کی بیعت اختیار کرلیں گے اور فساد سے جماعت محفوظ رہے گی۔چنانچہ ایک دن عصر کے بعد جبکہ مولوی سیّد محمد سرور شاہ صاحب جو ہماری جماعت کے سب سے بڑے علماء میں سے ایک ہیں میرے ساتھ سیر کو گئے تو تمام سیر میں دو گھنٹہ کے قریب ان سے اسی امر پر بحث ہوتی رہی اور آخر مَیں نے ان کو منوالیا کہ ہمیں اس بات کے لئے پورے طور پر تیار ہونا چاہئے کہ اگر اس بات پر اختلاف ہو کہ خلیفہ کس جماعت میں سے ہو؟ تو ہم ان میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔حضرت خلیفہ اوّل کی وفات آخر وہ دن آگیا جس سے ہم ڈرتے تھے۔۱۳ ؍مارچ کو جمعہ کے دن صبح کے وقت حضرت خلیفۃ المسیح کو بہت ضعف معلوم ہونے لگااور ڈاکٹروں نے لوگوں کا اندر جانا منع کردیا۔مگر پھر بھی عام طور پر لوگوں کا یہ خیال نہ تھا کہ وہ آنے والی مصیبت ایسی قریب ہے۔آپ کی بیماری کی وجہ سے آپ کی جگہ جمعہ بھی اور دیگر نمازیں بھی آپ کے حکم کے ماتحت مَیں پڑھایا کرتا تھا چنانہ جمعہ کی نماز پڑھانے کے لئے میں مسجد جامع گیا۔نماز پڑھا کر تھوڑی دیر کے لئے مَیں گھر گیا۔اتنے میں ایک شخص خان محمد علی خان صاحب کا ملازم میرے پاس آن کا پیغام لیکر آیا کہ وہ میرے انتظار میں ہے اوران کی گاڑی کھڑی ہے چنانچہ میں ان کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر ان کے مکان کی طرف روانہ ہوا۔ابھی ہم راستہ میں تھے تو ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے ہمیں اطلاع دی کہ حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہوگئے ہیں اور اس طرح میری ایک پُرانی رئویا پوری ہوئی کہ میں گاڑی میں بیٹھا ہوا کہیں سے آرہا ہوں کہ راستہ میں مجھے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کی خبر ملی ہے۔یہ خبر اس وقت کے حالات کے ماتحت ایک نہایت ہی متوحش خبر تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کا تو ہمیں صدمہ تھا ہی مگر اس سے بڑھ کر جماعت میں تفرقی پڑجانے کا خوف تھا۔