انوارالعلوم (جلد 6) — Page 153
جن سے رفع فساد ہوجائے۔اس وقت مجھے یاد ہے۔دو تین آدمی اوربھی تھے۔جہاں تک مجھے خیال ہے۔سرحد کا ہی کوئی آدمی تھاجس نے خط کے ذریعہ یہ سوال کیا تھا۔اورغالباً مفتی محمد صادق صاحب نے سوال پیش کیا تھا۔مَیں نہیں جانتا کہ مفتی صاحب کو یہ بات یاد ہے یا نہیں۔مگر مَیں اس پر حلف اُٹھاسکتا ہوں۔کیا مولوی محمد علی صاحب یا ان کے رفقاء اس امر پر حلف اُٹھانے کیلئے تیار ہیں کہ حضرت خلیفہ اوّل نے میرے مضمون کا مفہوم وہی سمجھا تھا جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔نہیں وہ ایسا کبھی نہیں کریں گے۔بلکہ اور بہانوں سےاس قسم سےبچنا چاہئیں گے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ میرے مضمون کا کچھ اور مفہوم سمجھنا نا ممکن ہے۔تاریخِ اختلاف سلسلہ کا چھٹا امر چھٹا امر جو مولوی محمد علی صاحب کی بیان کردہ تاریخ سلسلہ میں قابل توجہ ہے۔ان کا یہ لکھنا ہے کہ ۱۹۱۳ء کے آخر میں ایم محمود نے پھر اعلان کیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کے منکر کافر ہیں۔اس کی اطلاع حضرت خلیفۃ المسیح کو ملی۔حضرت خلیفہ اوّل کے اس فتویٰ کو بھی انہوں نے غلط ٹھہرایا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی احمدی کے لئے ناجائز ہے۔حالانکہ خود ۱۹۱۲ء میں حج میں انہوں نے غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھی۔اور حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں جن لوگوں نےحج کیا تھا۔وہ بھی ایسا ہی کرتے تہے تھے چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل بیمار تھے اس لئے آپ نے مولوی محمد علی صاحب کو حکم دیا کہ وہ اسکے متعلق جماعت کو ہدایت کریں۔اور کچھ نوٹ بھی لکھوائے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا خواجہ کمال الدین کو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت دینا شخص حالات کے ماتحت تھا یہ اموربھی ویسے ہی غلط ہیں۔جیسا کہ پہلےحضرت خلیفۃ المسیح نے کوئی فتویٰ غیر احمدی کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا نہیں دیا۔اصل بات یہ ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب ہمیشہ سے غیر احمدیوں کے خوف سے اوران میں رسوخ پیدا کرنے کے لئے کوشش کرتے تھے کہ کسی طرح ان کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت مل جاوے۔ولایت پہنچنے پر انہوں نے بڑے زور سے حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں لکھنا شروع کیا کہ یہاں غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے سے بڑے فتنہ کا خوف ہے۔لوگ اسلام سے بد ظن ہوجاویں گے۔اور تبلیغ کا کام خراب ہوجائے گا۔چونکہ