انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 135

خارج کیا ہے کہ اسے حضرت خلیفۃ المسیح سے اختلاف ہے۔اور وہ اس اختلاف پر مضبوطی سے قائم ہے۔بلکہ آپ نے اظہار افسوس بھی کیا ہے کہ جبکہ مَیں نے صاف طور پر لکھا دیا کہ تم میرے اعلان کے مخاطب نہیں ہو۔تو کیو تم پھر بھی یہ لکھے جاتے ہو کہ مجھے تمہارے عقائد سے اختلاف ہے۔اور جبکہ ایک مُرید خو د اپنے منہ سے کہے کہ اسے خلیفۂ وقت سے اُصولی اختلاف ہے اور سمجھانے پر بھی نہ سمجھے۔اور مقابلہ پر مصرر ہے۔تو اس کا علاج سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ اسے جماعت سے خارج کیا جاوے۔ظہیر نے کیوں حضرت خلیفہ اوّل سے اختلاف عقائد کا اظہار کیا اس جگہ یہ سوال ہوسکتا ہے کہ جب عقائد کا کوئی اختلاف نہ تھا۔اور زمیندار کی غلط رپورٹ کی الحکم اصلاح کرچکا تھا اور اس اعلان کی تردید بھی حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے کردی تھی۔جسے بعض لوگوں نے جُھوٹ بول کر ظہیر الدین کی کتاب کے متعلق مشہور کر رکھا تھا۔توپھر کیا وجہ تھی کہ ظہیرالدین نے اسامر پر زور دیا کہ اسے حضرت خلیفۃ المسیح کے عقائد سے اختلاف ہے۔سو یاد رہے کہ گو ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کے ظہور میں ایسی کوئی بات نہیں جو عقائد سے اختلاف ہے۔سو یاد رہے کہ گو ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کے ظہور میں ایسی کوئی بات نہیں جو عقائد سلسلہ کے خلاف ہو مگر ۱۹۱۲؁ء میں جس وقت حضرت خلیفۃ المسیح سے اس کا اختلاف شروع ہوا ہے اس شخص کی حالت بگڑنی شروع ہوگئی تھی اور اسے یہ خیال پیدا ہونا شروع ہوگیا تھا کہ یہ بھی مسیح موعودؑ کی بعض پیشگوئیوں کا مصداق ہے یا کم سے کم اس نے دبی زبان سے لوگوں میں اس امر کا اظہار شروع کردیا تھا اور یہ چاہتا تھا کہ جماعت میں کسی طرح فتنہ ڈالے اور اس نے تمام خط و کتابت میں یہ رویہ اختیار کر رکھا تھاکہ حضرت خلیفۃ المسیح پر جھوٹ کا الزام لگائے۔چنانچہ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔اس کے خط سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ حضرت خلیفۃ المسیح کی اس تحریر کو کہ آپ کا اعلان اس کے متعلق نہیں شک کی نگاہوں سے دیکھتا تھا۔اور درحقیقت اس کا یہ خیال تھا کہ جو کچھ زمیندار میں شائع ہوا ہے۔وہی درست ہے۔الحکم کی رپورٹ محض احمدیوں کو خوش کرنے کے لئے ہے۔اس لئے اپنی تحریرات میں باوجود حضرت خلیفۃ المسیح کے بار بار کے انکار کے لکھتا جاتا تھا کہ مجھے آپ کے عقائد سے اختلاف ہے لیکن جب اس نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے اس کو جماعت سے خارج کردیا۔اور جماعت میں سے کسی نے اسے منہ نہ لگایا تو پھر اس نے بظاہر رجوع کرلیا اورتوبہ کرکے احمدی جماعت پر شامل ہوگیا۔مگر رسول کسی اچھے موقع کا منتظر رہا۔پس اس کا اختلاف عقیدہ کا دعویٰ واقعات پر مبنی نہ تھا بلکہ اپنے اندر یہ مفہوم مخفی رکھتا تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح