انوارالعلوم (جلد 6) — Page 113
مولوی محمد علی صاحب کے خلاف بیانی اپنے عقائد کے اظہار کے بعد اب میں اس سلسلہ واقعات کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔جو مولوی محمد علی صاحب نےاپنی کتاب میں درج کیا ہے۔اور انشاء اللہ تعالیٰ ہر ایک حق بین پر جو تعصب کی پٹی اپنی آنکھوں سے اُتار کر دیکھے گا۔ثابت ہوجاوے گا کہ مولوی صاحب نے ان واقعات کے بیان کرنے میں دیدہ و دانستہ خلاف بیانی سے کام لیا ہے۔٭اور خدا تعالیٰ کے خوف سے کام نہیں لیا۔کیونکہ مسائل کے بیان میں یا دلیل کے دینے میں اگر کوئی شخص غلطی کرتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے سمجھنے میں غلطی کی۔لیکن جو شخص ایک نہیں دو نہیں بلکہ ایک مسلسل سلسلہ واقعات کو غلط بیان کرے۔اس کی نسبت سوائے اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر ناواقفوں کو دھوکا دینا چاہا ہے۔تاریخ اختلاف مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ:- ۱- ان عقائد کا رواج دینے والا درحقیقت ایک شخص ظہیر الدین ہے جو کنال ڈیپارنمنٹ گوجرانوالہ میں ملازم ہے اور اس کی تحریرات نبوت مسیح موعود ؑ کے متعلق ۱۹۱۱ءتک کی پائی جاتی ہیں اس کی پہلی کتاب نبی اللہ کاظہور ہے جو اپریل ۱۹۱۱ءمیں ختم ہوئی ہے اور ضرور اس سے پہلے ۱۹۱۰ء کےآخری مہینوں یا ۱۹۱۱ء کے ابتدائی مہینوں میں لکھی جانی شروع ہوئی ہوگی۔اس کتاب میں اس نے بحث کی ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی نہ تھے بلکہ آپؐ کے بعد بھی نبی آتے رہیں گے۔۲ - اس کتاب کا عام طور پر جماعت میں نوٹس نہیں لیا گیا مگر کسی نہ کسی طرح یہ کتاب یاکوئی اور رسالہ اسی مضمون پر حضرت خلیفہ اوّل کے سامنے پیش کیا گیا جس پر آپ کی اس سے خط وکتابت ہوئی اور آخر حضرت خلیفہ اوّل کی طرف سے ایک اعلان کیا گیا کہ محمد ظہیر الدین چونکہ ایسے خیالات شائع ----------------------------------------------------------------------------------------------- ٭ میں ایک لمبے عرصہ تک مولوی صاحب کا لحاظ کر رہا ہوں اور ہمیشہ ان کی نیت پر حملہ کرنے سے احتراز کرتا رہا ہوں۔لیکن مولوی صاحب اس نرمی کے نتیجہ میں ہمیشہ آگے ہی آگے قدم رکھتے چلے گئے ہیں اور دوسروں کےجذبات کا خیال کرنا انہوں نے اپنے اوپر حرام کرلیا ہے۔اس لئےاب وقت آگیاس ہے کہ ان کی حقیقت کو دُنیا پر ظاہر کیاجاوے اورجان بوجھ کر جو وہ لوگوں کو دھوکا دے رہے ہیں اس کا اظہار کیا جائے۔گو جیسا کہ مَیں پہلے لکھ چکا ہوں۔مَیں سب و شتم کا طریق ان کے جواب میں اختیار نہیں کرسکتا۔منہ