انوارالعلوم (جلد 6) — Page 110
باب اوّل ان غلط واقعات کی تردید میں جو مولوی محمد علی صاحب نے اختلاف سلسلہ کے حالات کازکر کرتےہوئے بیان کئے ہیں مولوی محمد علی صاحب کا تبدیلی عقیدہ کے متعلق مجھ پر بے جا الزام مسیحیوں سے غلط طور پر ہماری مشابہت بتانے کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے اختلافات کی ایک تاریخ بیان کی ہے۔جس میں انہوں نے اپنی طرف سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد بعض واقعات سے متأثر ہوکر میں نے (یعنی اس عاجز نے) اپنے عقائد میں تبدیلی پیدا کی ہے۔تعداد عقائد یہ تبدیلی عقیدہ مولوی صاحب تین امور کے متعلق بیان کرتے ہیں۔اوّل یہ کہ مَیں نے حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق یہ خیال پھیلایا ہے کہ آپ فی الواقع نبی ہیں۔دوم یہ کہ آپ ؑہی آیت اِسْمُہٗ اَحْمَدُ کی پیشگوئی مذکورہ قرآن کریم(الصف:۷) کے مصداق ہیں۔سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود ؑ کا نام بھی نہیں سُنا۔وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ہر سہ عقائد کا بیان مَیں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ۱۹۱۴ءیا اس سے تین چار سال پہلے سے مَیں نے یہ عقائد اختیار کئے ہیں بلکہ جیسا کہ مَیں آگے ثابت کروں گا۔ان میں سےاوّل الذکر اور آخر الذکر حضرت مسیح موعودؑکے وقت سے ہیں۔اورثانی الذکر عقیدہ جیسا کہ خود مَیں نے اپنے لیکچروں میں بیان کیا ہے جو چھپ بھی چکے ہیں حضرت مسیح موعودؑکی وفات کے بعد حضرت استازی المکرم خلیفۃ المسیح الاوّل سے گفتگو اور ان کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔