انوارالعلوم (جلد 6) — Page 101
کے رو سے نبی مانتے ہیں۔لیکن کیا مسیحی بھی حضرت مسیح کو انہی معنوں سے خدا کا بیٹا مانتے ہیں جن معنوں کی رو سے کہ حضرت مسیح نے دعویٰ کیا تھا۔اگرنہیں تو پھر ہمیں ان سے کیا مشابہت ہے۔ہمیں تو اس گروہ سے مشابہت ہے جو حضرت مسیح کے سچّے متبعین میں سے تھا اور جن کی تعریف اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں کرتا ہے۔ہاں وہ لوگ جو حضرت مسیح موعودؑکو تشریعی نبی مانتے ہیں ان کو اس دوسرے گروہ سے مشابہت ہے۔مگر تعجب ہے کہ باوجود اس کے مولوی محمد علی صاحب اوران کے رفقاء کا ان لوگوں سے خاص تعلق ہے اور ہماری عداوت جمیں ان سے جوڑ ہے۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات پر جو نام نہاد مجلس شوریٰ قائم ہوئی تھی اس میں یہ شخص بھی شامل تھا۔(پیغام مورخہ۲۴ مارچ ۱۹۱۴ء)اسی طرح رسالہ المہدی میں اس شخص کا ہمارے خلاف مضمون چھپا۔اسی طرح بعد میں بھی مولوی صاحب کی آپ سے ملاقات ہوتی رہتی ہے اور وہ بیان کرتا ہے کہ مولوی صاحب اس شرط پر کہ وہ گو خفیہ طور پر اپنے عقائد کا اظہار کرے مگر علی الاعلان اشتہاروں اور لیکچروں کے ذریعہ سے نہ کرے اسے اپنی انجمن کے ماتحت ملازم رکھنے کے بھی خواہش مند ہوئے تھے۔بلکہ ۱۹۱۸ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر انہوں نے اس کو اپنے سٹیج پر اپنی تائید میں لیکچر دینے کا موقع دیا۔پس یہ ایک عجیب امر ہے کہ ہیں تو ہم لوگ اس شخص کے ہم خیال مگر تعلق اس کا مولوی محمد علی صاحب سے اورا ن کا اس سے ہے اس اتحاد کو دیکھ کر سوائے اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ۔کند ہم جنس باہم جنس پرواز۔چونکہ دونوں سلسلہ احمدیہ کے مٹانے کے درپے ہیں۔اس لئے باوجود اختلاف کے ہمارے خلاف آپس میں مل جانے سے پرہیز نہیں۔کیونکہ گو ذرائع مختلف ہیں مگر مقصد ایک ہے۔مولوی محمد علی صاحب کے انجیلی حوالجات ہمارے مفید مطلب ہیں پیشتر اس کے کہ مَیں اس مضمون کو ختم کرو۔یہ بھی بیان کردینا چاہتا ہوں کہ نہ صرف یہ کہ مولوی صاحب کی بیان کردہ انجیلی آیا سے ان پیرواں سے جنہوں نے آپ کے درجہ میں غلو کیا ہماری مشابہت ثابت نہیں ہوتی۔بلکہ ان سے مسیح موعود ؑ کے نبی ہونے کی ایک دلیل بھی ملتی ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ان آیات سے معلوم ہوتا ہےکہ حضرت مسیح ناصری پر ان کے مخالفوں نے اعتراض کیا تھا کہ یہ اپنے آپ کو خدا کہتا ہے۔(کیونکہ خدا کا بیٹا بننا اور خدا کہنا ایک ہی بات ہے)اس کا جواب انہوں نے دیا کہ کیا بائبل میں یہ نہیں کہا گیا کہ تم خدا ہو۔پس اگر ان لوگوں کو جو نبی تھے۔خدا کہا گیا ہے۔تو مَیں نے بھی اگر اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا تو اس میں کیا حرج ہے مولوی صاحب اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں۔اور صحیح نتیجہ نکالتے ہیں کہ مسیح اپنے آپ کو اورمعنوں سے خدا کا بیٹا