انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 80

انوار العلوم جلد 4 ۸۰ بیعت کرنیوالوں کیلئے ہدایات آئیں گی بلکہ یہ کسے کہ گو زمانہ ایسا نہیں لیکن اگر کوئی ایسی تکلیف آئے تو میں اُسے برداشت کرنے کے تیارہ ہوں ۔ اگر مجھے وطن سے نکالا جائے گا تو نکلوں گا، اگر میرا مال چھین لیا جائے گا تو پروا نہیں کرونگا، اگر قتل کیا جائیگا تو اس کے لئے بھی تیار ہونگا ۔ اگر چہ کم ہیں لیکن ہماری اری جماعت میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اس قسم کی تکالیف کو برداشت کیا گیا ۔ مالا بار میں ہماری جماعت ابھی کم ہے، وہاں احمدیوں کی عورتوں کا جبراً دوسری جگہ نکاح کر دیا گیا ، جائدادیں چھین لیں اور بھی کئی جگہ طرح طرح کی تکالیف پہنچائی گئیں مگر احمد یوں نے کوئی پرواہ نہ کی ۔ پس جب انسان صداقت کو قبول کرے تو اس طرح کرے کہ پھر اس کے لئے ہر ایک چیز جو اُسے قربان کرنی پڑے کر دے اور جب اپنے آپ کو اس بات کے لئے تیار پائے تب بیعت کر ہے ۔ ان باتوں کے سننے کے بعد اگر آپ بیعت کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں مگر پھر بھی میں سہی نصیحت کرتا ہوں کہ خوب سوچ سمجھ کر بیعت کریں اور ان تکالیف اور مشکلات کو برداشت کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کر لیں جو انبیاء کی جماعتوں پر آتی ہیں ۔ اس پر جب موصوف نے کہا کہ میں بالکل مطمئن ہوں اور بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں نے تو بیعت لی گئی اور اس کے بعد حضور نے تبلیغ کرنے اور خلیفہ وقت سے زیادہ تعلق بڑھانے کی تلقین فرمائی ۔ الفضل ٣٠ رمنی ه ) ۱۹۲۱ء