انوارالعلوم (جلد 6) — Page 56
انوار العلوم جلد 4 ۵۶ معیار صداقت کے لئے کہ یہ طریق غلط ہے ، انجیل کے پیش کردہ لیسوع کو اور اس کی انجیلی حیثیت کو سامنے رکھ کر سختی سے جواب دیا ۔ اس طریق نے عیسائیوں کے قلموں کو توڑ دیا اور ان کی زبان کو بند کر دیا۔ کیا حضرت مرزا صاحب نے یہ طریق اختیار کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خدمت نہیں کی اور آپ کو دشمنوں کی بد زبانیوں سے نہیں بچایا ۔ پھر حیرت ہے کہ ان کو کیوں غصہ آتا ہے کہ علی کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ جائیں یہ عیسائی ہو جائیں ۔ ہم محمدی ہیں ہمیں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غیرت ہے ۔ اگر آپ پر اب بھی کوئی اس طریق سے حملہ کر یگا تو ہم پھر وہی طریق اختیار کرینگے۔ نہیں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کسی انسان سے محبت نہیں ہو سکتی ۔ حضرت مرزا صاحب نے جو طریق اختیار کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائیوں نے اپنا طریق عمل بدل دیا اور گورنمنٹ کو بھی ایک قانون بنانا پڑا۔ پس یہ کیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی کرنے والے لوگ ہیں کہ جس طریق سے آپ کی عزت کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے یہ اس کو برا کہتے ہیں اور اس کو گالیاں قرار دیتے ہیں۔ الوہیت حضرت صاحب پر دعوی الوہیت کا الزام پھر اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے الو بیت کا دعویٰ کیا اور ثبوت یہ کہ انھوں نے کہا کہ میں نے آسمان بنایا اور زمین بنائی۔ لیکن ان مولویت کے مدعیوں کو معلوم نہیں کہ یہ خواب اور کشف کی بات ہے اور خواب اور کشف معنے رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے اپنا ایک کشف بیان کیا ہے اور اس کشف میں انسان کا اپنا کچھ دخل نہیں ہوتا لیکن اگر کشف اور خواب پر اعتراض ہو سکتا ہے تو احادیث میں آتا ہے کہ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کشف دیکھا کہ آپ کے ہاتھ میں دو کڑے ہیں۔ کیا کوئی ان مولویوں جیسا بے خبر اعتراض کر سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ من ذلک عورتوں کی طرح زیور پہنا کرتے تھے۔ پھر یہ مولوی صاحب جنھوں نے یہ اعتراض پیش کیا ہے غالباً انہی کے پیر مولوی محمدعلی مون گھیری نے اپنی ایک خواب بیان کی ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ وہ اپنی ماں سے جماع کر رہتے ہیں ۔ کیا یہ ایک گندا خواب نہیں۔ پھر شیشہ کے مکان میں رہنے والے ہم پر کیوں پتھر پھینکتے ہیں۔ اسمان و زمین کا بنانا خواب میں دیکھنا تو بڑا نہیں ۔ مگر ماں سے جماع کرنا کہاں کی خوبی ہے۔ پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے پیر مولوی فضل الرحمان صاحب سے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ اسکے معنے یہ ہیں کہ آپ کو بڑا درجہ ملے گا۔ اس پر ہمارے ایک دوست نے لکھا تھا کہ ان پیر صاحب کے مرید اس بڑے درجہ کے حصول کے لئے آنکھیں بند کر کے ماں کے ساتھ جماع کرنے کا تصور کر کے بیٹھ جاتے ہونگے اور اس طرح روحانی منازل طے کرتے ہونگے ۔ یہ ان مولویوں کی تہذیب ہے اور یہ ان کی واقفیت ہے اور بخاری کتاب المناقب باب علامات الغيوة في الاسلام -