انوارالعلوم (جلد 6) — Page 48
انوار العلوم جلد : لدي معیار صداقت وعدہ نہیں کر سکتا، لیکن جب میں یہاں آیا اور معلوم کیا تو معلوم ہوا کہ دوسرا فریق مقدمہ پیر صاحب ہی تھے۔ غرض ان لوگوں کا یہ بے اصولا پن ہے کہ کتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں اور ان کے اعمال میں کوئی ترتیب نہیں ۔ ایسی صورت میں ہم کب ان سے اشتراک کر سکتے ہیں ۔ یہ بے اصولا پن تو انی کو مبارک رہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ انگریز ظلم کرتے ہیں ہم انگریزوں ہمارے ساتھ غیر میں کی کیا کی غلطی کو صحیح نہیں کہہ سکتے۔ اگر انگریز کوئی غلطی کرتے ہیں تو ہم ان کو بتاتے ہیں۔ ہم ان کے مذہب پر اصولی طور پر اعتراض کرتے ہیں اور ہم نے اس بارے میں اُصولاً سخت سے سخت ان کو لکھا۔ لیکن باوجود حکومت کے کبھی انھوں نے جوش نہیں دکھایا ۔ مگر ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ با وجود اس کے کہ ان کے پاس کوئی حکومت نہیں ۔ انھوں نے با رہا اور مختلف مقامات پر ہم پر سختی اور ظلم کیا ہے ایسی صورت میں ہم تو یہی کہیں گے کہ خدا گنجے کو ناخن نہ دے ۔ انھوں نے قصور میں ہمارے ساتھ کیا کیا ۔ احمدیوں کے گھروں میں پانی دینے سے سقے بند کر دیئے ۔ کنووں پر پہرے بٹھا دیئے اور بچوں کو پانی سے پیاسا تڑپا دیا اور وہ کربلا کا واقعہ جس پر مسلمان ہر سال روتے ہیں۔ ہمارے لئے قصور میں انھوں نے تازہ کر دیا ۔ اور کئی کئی دن تک ہمارے آدمیوں کو پانی نہ دیا ۔ کیا یہ ظلم نہیں ۔ پھر کٹک میں ایک احمدی کی لاش کو انہی غیر احمدی لوگوں نے قبر سے نکال کر گتوں کے آگے ڈال دیا اور احمدیوں کے دروازوں کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ کوئی نکلے تو سہی کسی طرح نکلتا ہے اور لاش کو دفن کرتا ہے۔ قریب تھا کہ گئے لاش کو پھاڑ ڈالیں کہ پولیس کو کسی بھلے مانس نے اطلاع دی اور پولیس نے آکر دفن کرائی۔ مقدمہ ہوا کسی شخص نے گواہی نہ دی اور صاف کہ دیا کہ ہم موجود نہ تھے اسی طرح کی کارروائیاں مختلف مقامات پر ہوتی رہتی ہیں۔ پس اس صورت میں ہم ان سے کسی انسانیت کے سلوک کی کس طرح توقع کر سکتے ہیں۔ کوئی نبی اور کوئی بات نہیں جس پر اعتراض نہ کیا گیا ہو دوسرا اختلاف ان کو ہم سے حضرت مسیح موعود کے متعلق ہے یہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے ہمارا مذہب برباد کر دیا۔ نبیوں کی ہننگ کی اور کہتے ہیں ان پر بہت سے اعتراض ہیں۔ پچھلے سال میرا لیکچر اسلامیہ کالج میں ہوا کہ اسلام میں فتنوں کا آغاز کیسے ہوا۔ اسی مضمون ہیں۔ پچھلے اسلامیہ میں ہوا کہ میں پر علی التواتر دو سال میری وہاں تقریریں ہوئیں۔ پہلے حضرت عثمان کے عہد کے واقعات پر اور دوسرے