انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 42

تبلیغِ اسلام کے یہ کام بھی کر رہا ہے اور کئی اخبارات میں ترکوں کی تائید میں آرٹیکل لکھے گئے ہیں۔غرض ہماری طرف سے باوجود ترکوں سے بے تعلق ہونے کے محض اسلام کے نام میں شرکت رکھنے کے باعث ان کے لئے اس قدر جد و جہد کی گئی ہے۔مگر ترکوں نے ہمارے لئے کیا کیا۔جب ہمارے بعض آدمی ان کے علاقے میں گئے تو ان کو گرفتار کرلیا گیا۔تو یہ لوگ کس قدر ناشکرگزار ہیں کہ باوجود اس قدر کوشش کے پھر ہمارے خلاف ایسے ایسے منصوبے کرتے اور اس قدر بدارادوں کے ساتھ آتے ہیں۔ہمارے مخالفوں کا بے اُصولا پن ہمیں کہتے ہیں کہ ہم ان کی خاطر گورنمنٹ سے بگاڑ لیں اور عدمِ تعاون کریں۔مگر یہ واعظین عدمِ تعاون جو ساری دُنیا کو عدم تعاون کے لئے مجبور کرتے اور ہمارے خلاف اس لئے جوش میں اندھے ہوجاتے ہیں کہ ہم عدم تعاون نہیں کرتے خود اس قسم کے ارادوں کے ساتھ آنے کے باوجود اپنے جلسہ میں جب سرکاری مجسٹریٹ اور پولیس کو دیکھتے ہیں تو ان کی تعریف کرتے کرتے ان کے ہونٹ خشک ہوجاتے ہیں۔ہم عدم تعاون کو خلاف اسلام خیال کرتے ہیں اس لئے ہم کو پولیس وغیرہ سے اگرمدد لیں تو ہمارے مذہب کی رُو سے ناجائزنہیں۔مگریہ جو عدم تعاون کے قائل ہیں ان کا تو فرض تھا کہ مجسٹریٹ اور پولیس کو اپنے جلسہ میں قدم نہ رکھنے دیتے اور کہتے کہ جائیے ہم اپنا انتظام آپ کرینگے۔یوں تو عدم تعاون پر یہ زور اور جلسہ میں ان کی تعریف اور خوشامد کی جائے۔حالانکہ ان سے تعاون ان کی شریعت کی رُو سے حرام ہے۔پس مجسٹریٹ اور پولیس کا ان کے جلسہ میں ہونا ان کے لئے کلینک کا ٹیکا تھا تو وہ جن بد ارادوں کے ساتھ آئے تھے ان میں سخت محرومی کے ساتھ وہ یہاں سے واپس ہوئے اور یہ خدا کا عین فضل اور کرم ہے۔ظالم گورنمنٹ کے مقابلہ میں ہمارا رویہ ہم بغاوت کے لئے نہ کبھی تیار تھے نہ ہیں نہ ہونگے۔اگر ہمارے نزدیک گورنمنٹ ایسی ظالمانہ ہوجائیگی جس کا ظلم نا قابل برداشت ہوگا تو ہم اس کا ملک چھوڑ دینگے۔کیا ہم گورنمنٹ کے خوشامد ی ہیں ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم اس گورنمنٹ کے خوشامدی ہیں۔مگر حیرت ہے کہ وہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ اس گورنمنٹ سے ہمیں کونسا زائد فائدہ ملتا ہے۔جتنا کہ باوجود مخالفت کے مسٹر گاندھی اور مسٹر محمد علی و شوکت علی اُٹھا رہے ہیں۔گورنمنٹ سے جو ایک ایکسٹریمسٹ(EXTREMIST) فائدہ اُٹھا رہا ہے وہی میں بھی لے *EXTREMIST