انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 545

انوار العلوم جلد 4 ۵۴۵ دعوت علماء اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُ وَن بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّ دعوت علماء اصر اسے علماء کرام ! جو جلسہ غیر احمدیان کے موقع پر قادیان تشریف لائے ہیں میں آپ لوگوں سے چند باتیں خلوص نیت اور محبت بھرے دل کے ساتھ کہنی چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ بھی اسی محبت اور اخلاص کے ساتھ ان پر غور کریں گے جس محبت اور اخلاص سے کہ میں ان کو پیش کرنے لگا ہوں ۔ آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہمارا اختلاف ایک مذہبی اختلاف ہے کوئی دنیا وی جھگڑا یا حق رسی کا سوال ہمارے اور آپ کے درمیان پیدا نہیں ہوا۔ یہی لوگ جو اس جلسہ کے بانی ہونے ہیں کچھ عرصہ پہلے اپنی خوشیوں اور اپنے عموں میں ہمارے آباء کی طرف رجوع کرتے تھے اور وہ بھی جس طرح باپ اپنے بیٹے سے محبت کا سلوک کرتا ہے عسر اور ٹئیر میں ان کے شریک ہوتے اور سے خود تکلیف اُٹھا کر ان کو آرام پہنچاتے تھے۔ حالات سے ناواقف نوجوان جو چاہیں کہیں اور کریں اکران کو آرام سے جو مگر قادیان اور اس کے ارد گرد کے بوڑھے اس امر کی شہادت دیں گے کہ ہمارے آباء نے اپنے عروج کے وقت بھی جب ان کو قادیان اور اس کے ارد گرد کے علاقہ پر حکومت حاصل تھی ان سے محبت کا تعلق ہی رکھا تھا اور جب وہ اپنی حکومت کھو بیٹھے اور صرف زمینداروں اور جاگیرداروں کی حیثیت ان کی رہ گئی تب بھی وہ ان سے حسن سلوک ہی کرتے رہے اور یہ لوگ بھی ان سے اعزاز و اکرام ہی کے ساتھ پیش آتے رہے۔ یہ اختلاف جواب نظر آرہا ہے اسی وقت سے شروع ہوا ہے جب